مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سارا رمضان عورت کو خون کے قطرے آتے رہے

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

جب عورت کو رمضان کے ایام میں واضح خون کے دھبے لگتے ہوں اور خون کے یہ دھبے رمضان کے سارے مہینے میں لگتے رہیں اور وہ روزے رکھتی رہے تو کیا اس کے روزے صحیح ہوں گے ؟

جواب :

ہاں ، اس کے روزے صحیح ہیں ، رہے خون کے یہ دھبے تو ان کا کچھ لحاظ نہیں ہے ، کیونکہ وہ رگوں (کے پھٹنے ) سے نکلنے والا خون ہے ۔ (حیض نہیں ) ۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا سے یہ اثر مروی ہے کہ انہوں نے کہا:
إن هذه النقط التى تكون كر عاف الأنف ليست بحيض
”بلاشبہ خون کے ان دھبوں کا حکم ناک سے بہنے والی نکسیر کا حکم ہے ۔ یہ حیض نہیں ہے ۔ “

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔