مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

روزے میں اگر کسی کو خود بخود قے آ جائے تو

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

روزے کی حالت میں قے آنا
سوال : روزے کی حالت میں کسی کو خودبخود قے آ جائے تو اس کا کیا حکم ہے وہ اس روزہ کی قضا کرے یا نہ کرے؟
جواب : روزہ کی حالت میں خود بخود قے آ جانے سے روزہ کی قضا نہیں، لیکن اگر کسی نے عمداً قے کی تو اسے اس روزہ کی قضا کرنی ہو گی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
”جسے خود بخود قے آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جس نے عمداً قے کی اس پر قضا ہے۔“ [أبوداؤد، كتاب الصيام : باب الصائم يستقي عامدًا 2380]
اس حدیث کو امام احمد اور اصحاب سنن اربعہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔