روزہ اور عیدین کا اجتماعی حکم
عبید اللہ طاہر حفظ اللہ

روزے اور عیدین اجتماعیت کے ساتھ
❀ « عن أبى هريرة رضي الله عنه، أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: الصوم يوم تصومون، والفطر يوم تفطرون، والأضحى يوم تضحون. »
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”روزہ اس دن ہے جس دن تم سب روزہ رکھو، اور عید الفطر اس دن ہے جس دن تم سب عید الفطر مناؤ اور عیدالاضحی اس دن ہے جس دن تم سب عید الاضحی مناؤ۔“ [سنن ترمذي 697، حسن]
نوٹ: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھنے کا آغاز کرنا اور اسے روکنا، دونوں اجتماعیت کے ساتھ ہو گا، لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ روزے اور عیدین میں لوگوں سے کٹ کر تنہا کوئی عمل اختیار کرے۔ بلکہ علمائے کرام اور اصحاب اقتدار جو فیصلہ کر دیں لوگ اسے قبول کریں، اور کوئی شخص اپنا الگ رویہ اختیار نہ کرے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1