مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دکانیں کرائے پر دے کر پگڑی لینے کا حکم

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

دکانیں اور مختلف جگہیں کرائے پر دے کر پگڑی لینے کا حکم
جب آدمی کوئی دکان ایک مقررہ مدت تک کے لیے کرائے پر لے، تو اس کے لیے اس مدت کے دوران میں وہاں رہنا بھی جائز ہے اور کسی دوسرے کو، جو استعمال کرنے میں اسی کی طرح ہو یا اس سے کم تر ہو، کرائے پر دینا بھی درست ہے، یعنی وہ اس دکان سے خود بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپنے وکیل کے ذریعے بھی، لیکن جب مدت پوری ہو جائے تو اس آدمی کے لیے خالی کر دینا ضروری ہوتا ہے جس سے اس نے دکان کرائے پر لی تھی، اس کا وہاں رہنے کا پھر کوئی حق نہیں بنتا ماسوائے اس کے کہ اس کا مالک اسے ا جازت دے دے۔
اس کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اس وقت تک دکان خالی نہ کرے جب تک اسے خالی کرنے کی رقم ادا نہ کی جائے، جسے عرف عام میں فارغ کرنے کی قیمت، یا قدم منتقل کرنا کہا جاتا ہے، البتہ اگر اس کی مدت ابھی باقی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
[الفوزان: المنتقى: 6]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔