مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خودکشی اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیے کہ خودکشی (جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کرنا) کس حالت میں یا کس موقع پر جائز ہے؟

جواب :

خودکشی اسلام میں حرام ہے اور کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی آلے کے ساتھ قتل کیا تو اسے اس کے ساتھ جہنم کی آگ میں عذاب دیا جائے گا۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قاتل النفس ح 1363)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو آدمی اپنا گلا گھونٹتا ہے وہ آگ میں بھی اپنے گلے کو گھونٹتا رہے گا اور جو آدمی اپنے آپ کو نیزہ مارتا ہے وہ آگ میں بھی اسی طرح اپنے آپ کو نیزہ مارتا رہے گا۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قاتل النفس ح 1365)
ان احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ خودکشی کرنا یعنی اپنے آپ کو ہلاک کرنا اسلام میں حرام ہے۔ آدمی جس آلے کے ساتھ اپنے آپ کو زخمی کرے گا یا ہلاک کرے گا قیامت والے دن جہنم کی آگ میں بھی وہ اس آلے کے ساتھ اپنے آپ کو مارتا رہے گا۔ لہذا حالات جیسے بھی ہوں خودکشی سے اجتناب لازم ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔