خواتین کا خلع لینے کا حق حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

اپنے شوہر کے بعض غیر شرعی افعال اور غیر اخلاقی حرکات کے باعث میں اپنے شوہر کے پاس نہیں رہنا چاہتی، کیا شرعی طور پر خلع لینا میرا حق ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔

جواب:

عورت اور مرد کا آپس میں ازدواجی رشتہ میں رہنے کے بعد گھر کو آباد کرنا ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات کو مودت ورحمت سے تعبیر کیا گیا ہے، لیکن بعض اوقات شیطان اس رشتہ کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ مرد و زن میں چپقلش شروع ہو جاتی ہے اور معاملہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے۔ حالات سے تنگ آکر یا تو مرد طلاق دے دیتا ہے یا عورت خلع کا مطالبہ کر دیتی ہے۔ بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، جیسا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة
(أبو داؤد، كتاب الطلاق، باب في الخلع 2226، ابن ماجه، أبواب الطلاق، باب كراهية أن تسأل المرأة زوجها الطلاق 2055)
’’جو عورت اپنے شوہر سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘‘
یہ صحیح حدیث واضح کرتی ہے کہ عورت کو بلاوجہ خلع کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے پر جنت میں داخلہ حرام ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر معقول وجہ ہو، جس کی بنا پر عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ کر خانگی زندگی نہیں گزار سکتی تو اسے خلع کا حق حاصل ہے۔
حبیبہ بنت سہل الأنصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے نکلے تو حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہنے لگی: ”میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔“ آپ نے پوچھا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ کہنے لگی: ”میں اور ثابت بن قیس اکٹھے نہیں رہ سکتے۔“ جب ثابت بن قیس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے جو اللہ نے چاہا ذکر کر دیا ہے۔“ وہ کہنے لگیں: ”یا رسول اللہ! جو کچھ اس نے مجھے دیا ہے وہ سارا میرے پاس ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثابت! اس سے یہ مال لے لو اور طلاق دے دو۔“ تو ثابت نے مال لے لیا اور وہ اپنے اہل میں بیٹھ گئیں۔
(أبو داؤد، كتاب الطلاق، باب في الخلع 2227، مسند أحمد 134/6 ج:27444، نسائی 169/6، نسائی كبرى 5656)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
إن امرأة ثابت بن قيس أتت النبى صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إن ثابت بن قيس ما أعتب عليه فى خلق ولا دين ولكني أكره الكفر فى الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أتردين عليه حديقته قالت نعم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اقبل الحديقة وطلقها تطليقة
(بخاري كتاب الطلاق باب الخلع وكيف الطلاق فيه 5273، المنتقى لابن الجارود 750)
’’ثابت بن قيس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میں ثابت بن قيس پر اس کے اخلاق اور دین میں کوئی عيب نہیں لگاتی ليكن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ثابت کو اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ قبول کر لے اور اسے ایک طلاق دے دے۔‘‘
صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عورت اپنے شوہر کے پاس نہ رہنا چاہے اور اس کی معقول وجہ ہو تو اسے خلع کا حق حاصل ہے۔ لہٰذا اگر سائلہ کے پاس معقول شرعی عذر ہے تو اسے حق خلع حاصل ہے، وہ عدالت، پنچایت یا قانونی چارہ جوئی کے ذریعے خلع حاصل کر سکتی ہے۔