مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حیض اور استحاضہ کے مشتبہ خون کا حکم: شرعی اصول

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

مشتبہ خون کا حکم

سوال :

جب عورت پر خون مشتبہ ہو جائے اور وہ تمیز نہ کر پائے کہ وہ حیض کا خون ہے یا استحاضہ کا یا کوئی اور خون ہے تو وہ اس کو کیا شمار کرے

جواب :

عورت سے خارج ہونے والے خون میں اصل تو یہ ہے کہ وہ خون حیض ہو الا یہ کہ واضح ہو کہ وہ استحاضہ کا خون ہے ، سو اس بنا پر جب تک یہ واضح نہ ہو کہ وہ استحاضہ کا خون ہے عورت اس کو حیض کا خون ہی شمار کرے ۔
(محمد بن صالح العثمین رحمہ اللہ)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔