مضمون کے اہم نکات
حج و عمرہ کے اہم امور
حج کے مہینے:
ارشاد باری تعالی ہے: [اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ]
حج کے مہینے مقرر ہیں۔ [البقرة:197]
حج کے مہینے یہ ہیں:
① شوال
② ذو القعدہ
③ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ۔
حج کے لیے احرام صرف انھی مہینوں میں باندھا جا سکتا ہے، جبکہ عمرے کے لیے احرام سال بھر میں کسی بھی وقت باندھا جا سکتا ہے۔
مسئلہ:
بعض نے یوم عرفہ، دس ذوالحجہ کے دن اور ایام تشریق [13,12,11] میں عمرہ کرنے کو مکروہ جانا ہے۔ یہ بات بلا دلیل ہے، ان ایام میں عمرے کی ممانعت پر کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔
شرائط حج:
① مسلمان ہونا،
② عاقل و بالغ ہونا،
③ تندرست و صحت مند ہونا،
④ صاحب استطاعت ہونا،
⑤ راستے کا پر امن ہونا، یعنی کسی قسم کی رکاوٹ کا نہ ہونا۔
عورتوں کے لیے ان شرائط کے علاوہ دو شرطیں اور بھی ہیں:
[1]: خاوند یا محرم کا ساتھ ہونا۔ [صحيح البخاري، جزاء الصيد، حديث:1862]
محرم کون کون ہیں؟
عورت، شوہر کے علاوہ، جن کے ساتھ سفر کر سکتی ہے، اور جن کو محرم کہا جاتا ہے، وہ کون کون ہیں؟
نسب کے اعتبار سے محرم حسب ذیل ہیں:
باپ، دادا، بیٹا، پوتا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، ماموں، چچا اور تایا۔
◈ رضاعت کے اعتبار سے، یعنی عورت نے جس عورت کا دودھ پیا ہے۔ اس کی وجہ سے بھی مذکورہ رشتے اس کے لیے حرام ہو جائیں گے، یعنی وہ بھی اس کے محرم ہوں گے، جیسے: رضاعی ماں کا خاوند، دودھ پینے والی عورت کا باپ تصور ہوگا۔ اسی طرح اس کے بیٹے اس کے بھائی، اس کے بھائی کے بیٹے بھتیجے، اس کی ہمشیرہ کے بیٹے بھانجے شمار ہوں گے۔ اور اس کے محرم ہوں گے۔ علاوہ ازیں رضاعی ماں کے بھائی ماموں، اس کے خاوند کے بھائی چچا ہوں گے اور محرم ہوں گے۔
◈ سسرالی رشتوں میں، سسر [شوہر کا باپ] شوہر کا [پہلی بیوی سے] بیٹا اور عورت کا داماد مَحْرَم ہیں۔ محرم کی اصولی تعریف اس طرح کی جاتی ہے، کہ جس کے ساتھ عورت کا کبھی نکاح نہ ہو سکے وہ اس کا محرم ہے، جیسے: باپ، بیٹا، سسر، داماد وغیرہ رشتے ایسے ہیں کہ جن سے کبھی بھی نکاح نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے بہنوئی محرم نہیں ہے کیونکہ بہنوئی سے عورت کا رشتہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس کی بیوی، جو کہ عورت کی ہمشیرہ ہے، فوت ہو جائے یا طلاق و خلع وغیرہ کے ذریعے ان کے درمیان علیحدگی ہو جائے۔ اسی طرح جیٹھ اور دیور بھی محرم نہیں، اس لیے کہ ان سے بھی اس وقت عورت کا نکاح ہو سکتا ہے، جب اس کا خاوند فوت ہو جائے یا طلاق و خلع وغیرہ کے ذریعے ان میں جدائی ہو جائے۔ عورت کو محرم سے پردے کا حکم نہیں، اسی، پردے کا حکم نہیں، اسی لیے بہنوئی اور دیور جیٹھ سے پردہ کرنے کا حکم ہے کیونکہ وہ محرم نہیں ہیں۔
عورت کے حج کے لیے دوسری شرط ہے۔
[2]. حالت عدت میں نہ ہونا۔ [عدت] کی تفصیل حسب ذیل ہے:
① خاوند کی وفات پر بیوہ کی عدت [قمری حساب سے] چار ماہ دس دن ہے۔
② حمل کی صورت میں طلاق کی عدت وضع حمل ہے۔
③ ماہواری آنے کی صورت میں طلاق کی عدت تین حیض ہے۔
④ کسی وجہ سے ماہواری نہ آنے کی صورت میں طلاق کی عدت تین قمری مہینے ہے۔
عدت کے دوران میں حج کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
عدت کی تین صورتیں ہیں:
① پہلی یا دوسری طلاق یافتہ عورت کی عدت۔
② وہ عورت جس کو طلاق بتہ [بائنہ] مل گئی، ہو اس کی عدت۔
③ جس عورت کا خاوند فوت ہو گیا ہو، اس کی عدت۔
① جس عورت کو پہلی یا دوسری طلاق ملی ہو اور وہ اس کی عدت، جو کہ تین حیض یا تین مہینے یا وضع حمل ہے، گزار رہی ہو۔ اس کے لیے تو حکم یہ ہے کہ وہ عدت کے دوران میں اپنے خاوند ہی کے گھر میں رہے کیونکہ پہلی اور دوسری طلاق، طلاق رجعی ہوتی ہے، یعنی اس میں خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، گھر میں رہنے کا فائدہ یہی ہے کہ شاید اس کو اپنے فعل پر ندامت ہو اور وہ رجوع کرلے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [لَا تُخۡرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخۡرُجۡنَ]
تم ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ [الطلاق:1]
ظاہر بات ہے کہ یہ مطلقہ رجعیہ عدت کے دوران میں حج پر نہیں جا سکتی۔
② وہ عورت جو مبتوتہ ہے، یعنی اسے مختلف اوقات میں تین طلاقیں مل چکی ہیں۔ ایسی تیسری طلاق کو طلاق بائنہ یا طلاق بتہ کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس طلاق کے بعد اس کا تعلق اپنے خاوند سے قطعی طور پر ختم ہو چکا ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ نکاح- [حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ]
یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔[البقرۃ:230]
ایسی عورت حج پر جاسکتی ہے، اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔
③ تیسری عورت وہ ہے جو بیوگی کی عدت گزار رہی ہے، یعنی اس کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی عدت کی مدت 4 مہینے 10 دن ہے۔ بعض آثار کی بنیاد پر بعض علماء کی رائے میں یہ عورت حج پر جاسکتی ہے۔
[أحكام النساء:2/447، تاليف مصطفى العدوى، طبع دار ابن عفان، قاهرة، مصر:1999]
لیکن جمہور علماء کی رائے یہ ہے، کہ یہ عورت پہلے عدت گزارے اور آئیندہ سال حج پر جائے اگر دیگر شرطیں پوری ہوں۔ یہی رائے زیادہ صحیح اور راجح ہے۔
ارکان حج
① حج کی نیت کرنا ② وقوف عرفہ ③ طواف زیارت ④ صفا و مروہ کی سعی
ان چار ارکان میں سے اگر ایک رکن بھی رہ گیا تو حج نہیں ہوگا۔
فرائض حج
① میقات سے احرام باندھنا [احرام کی نیت کر کے احرام والا لباس پہننا۔]
② 9 اور 10 ذو الحجہ کی درمیانی شب مزدلفہ میں گزارنا۔
③ سر کے بال منڈوانا یا کتروانا۔
④ ایام تشریق، یعنی 12,11 اور 13 ذو الحجہ میں سے کم از کم ابتدائی دو راتیں منی میں گزارنا۔
⑤ تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا ۔
⑥ طواف وداع کرنا۔ البتہ حیض و نفاس والی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں،ان کے لیے اجازت ہے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر اپنے ملک کو روانہ ہو سکتی ہیں بشرطیکہ انھوں نے 10 ذوالحجہ کو طواف زیارت کر لیا ہو۔
وضاحت:
اگر کوئی محرم حج قران یا حج تمتع کر رہا ہو تو اس پر قربانی بھی فرض ہے۔
مانع حیض گولیوں کا استعمال:
آج کل حیض کی عارضی بندش کے لیے گولیاں مل جاتی ہیں، ڈاکٹر کے مشورے سے ان کے استعمال کو علماء نے جائز قرار دیا ہے، اس لیے اگر ان کے استعمال سے حیض کے آنے کا خطرہ نہ رہے اور پورے سفر حج میں وہ مشکلات پیدا نہ ہوں جو حیض کی وجہ سے طواف قدوم اور طواف زیارت کے موقع پر پیش آتی ہیں تو ان گولیوں کا استعمال جائز ہے، بشرطیکہ صحت کے لیے مضر نہ ہوں، بنابریں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیا جائے۔
مذکورہ امور کے سوا بقیہ تمام مناسک حج سنت ہیں۔
تنبیهات
◈ جو حاجی حج کا کوئی رکن ادا نہ کر سکے اس کا حج نہیں ہے، اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔
◈ جو حاجی حج کے فرائض و واجبات میں سے کوئی فرض یا واجب چھوڑ دے گا تو راجح قول کے مطابق وہ توبہ و استغفار کرے، اس پر کوئی دم نہیں ہے۔
[الموسوعة الفقهية الميسرة:295/4]
◈ جو شخص قربانی نہ کر سکتا ہو، وہ [3] روزے حج کے دنوں میں اور [7] روزے واپس گھر پہنچ کر رکھے گا۔
جو شخص کسی وجہ سے حج کی کوئی سنت ادا نہ کر سکے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہوگا۔
اقسام حج
حج کی تین قسمیں ہیں:
① قران
② تمتع
③ افراد
حج قران:
لغوی اعتبار سے قران کے معنی ،،ملانا،، ہیں۔
حج قران کرنے والا احرام باندھتے وقت حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرتا ہے۔ اور دونوں کو ایک ہی احرام [نیت] میں ادا کرتا ہے، یعنی دونوں کے درمیان حلال نہیں ہوتا۔ اس لیے اسے قران کہتے ہیں۔ اس میں قربانی کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ: نبی اکرمﷺ نے زندگی میں ایک حج کیا اور وہ قران تھا۔
حج تمتع:
لغت میں تمتع کے معنی ،،فائدہ،، اٹھانا ہیں۔
حج تمتع کرنے والا میقات سے عمرے کا احرام [نیت] باندھتا ہے۔ اور ادائیگی عمرہ کے بعد احرام کھول کر حلت کا فائدہ اُٹھاتا ہے، یعنی حلال ہو جاتا ہے اور [8] ذوالحجہ کو مکہ ہی سے دوبارہ حج کا احرام باندھتا ہے، اس لیے اسے حج تمتع کہتے ہیں۔ اس میں قربانی کرنا ضروری ہے۔
حج افراد:
افراد کے معنی کسی چیز کو ،،اکیلا،، کرنا ہیں۔
حج افراد کرنے والا میقات سے صرف حج کا احرام اور حج کی نیت کرتا ہے، اس لیے اسے حج افراد کہتے ہیں۔ اس میں قربانی کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔
حج کی اقسام میں سے کون سا حج افضل ہے؟
ویسے تو اسلام میں یہ تینوں اقسام کے حج جائز اور درست ہیں، ان میں سے کوئی سا بھی حج کر لیا جائے تو مسلمان اسلامی فریضے سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے بذات خود حج قران کیا تھا۔ لیکن بعد میں آپﷺ نے حج تمتع کرنے کے شوق کا اظہار فرمایا اور ساتھ ہی صحابہ کو بھی حکم دیا کہ وہ اپنی نیتوں کو حج تمتع میں بدل لیں، جن صحابہ نے آپﷺ کے حکم کے بعد بھی نیتیں نہیں بدلی تھیں آپﷺ نے ان پر غصےکا اظہار بھی فرمایا تھا۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث:1211]
آپﷺ کے ساتھ چونکہ قربانی تھی اس لئے آپ اپنی نیت نہ بدل سکے۔ لہذا ان تینوں اقسام میں سے حج تمتع کرنا سب سے افضل ہے۔
حج بدل:
یعنی دوسرے کی طرف سے حج کرنا اور یہ جائز ہے بشرطیکہ حج بدل کرنے والا پہلے خود اپنا حج کر چکا ہو۔ اور جس کی طرف سے حج ہو رہا ہے وہ فوت شدہ ہو یا انتہائی مریض ہو جو کسی صورت سفر کے قابل نہ ہو۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث:1811]
حج بدل کرنے والا احرام سے قبل نیت کرتے ہوئے اس شخص کا نام لے جس کی طرف سے وہ حج کر رہا ہے، یعنی احرام باندھنے کے الفاظ دہراتے وقت آخر میں ،،عن،، کہے، پھر اس آدمی کا نام لے، مثلاً :اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ حَجًّا عَنْ…….
مسئلہ: اگر بالفرض وہ اس کا نام لینا بھول گیا یا نام ہی بھول گیا تو نیت ہی کافی ہے۔ اسی طرح حج کے طریقے میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔
مسئلہ: حج بدل کی طرح عمرہ بھی دوسرے کی طرف سے کیا جا سکتا ہے بشر طیکہ اس شخص نے پہلے اپنا عمرہ ادا کیا ہو۔ نیز عمرے کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث:1810]
بچوں کا حج:
نابالغ بچے بھی حج کر سکتے ہیں۔ ان کے حج کا اجر و ثواب والدین کو ملے گا۔ [صحیح مسلم، الحج، حديث:1336]
بچوں کی کسی غلطی پر کوئی دم یا فدیہ نہیں: نبیﷺ نے فرمایا:
تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سویا ہوا حتی کہ بیدار ہو جائے، بچہ حتی کہ بالغ ہو جائے، اور پاگل حتی کہ اس کا پاگل پن ختم ہو جائے۔ [سنن أبي داود، الحدود، حديث:4403]
کم سنی میں حج کرنے سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی:
اگر کسی بچےنے بلوغت سے قبل حج کیا تو اس سے فرضیت ساقط نہیں ہوگی۔ بلوغت اور استطاعت کی صورت میں اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔
[المعجم الأوسط للطبراني:353/3، حدیث:2752]