تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
طلاق صرف ایک دوسرے سے جدا ہونے کا ذریعہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کا آخری ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے مقرر کر دہ طریقے کے مطابق طلاق دی جائے تو عدت کی صورت میں مرد کے پاس رجوع کا اور عورت کے پاس خاوند کو منا لینے کا موقع موجود ہوتا ہے اور تین حیض یا وضع حمل تک ایک گھر میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے امید ہوتی ہے کہ جدائی کا باعث بننے والی کشیدگی ختم ہو جائے اور وہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہر کام میں ہمارے لیے نمونہ ہیں نکاح و طلاق میں بھی نمونہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیے ہیں اور بعض کو طلاق بھی دی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الجون کو {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ “} کہنے پر طلاق دے دی۔ [یکھیے بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأتہ بالطلاق؟: ۵۲۵۴] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے کر رجوع بھی کیا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا] [أبو داوٗد، الطلاق، باب في المراجعۃ: ۲۲۸۳، وقال الألباني صحیح] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ(رضی اللہ عنھا) کو طلاق دے دی، پھر ان سے رجوع کر لیا۔“
(آیت 1) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے ساتھ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا، پھر {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} میں جمع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیوں کیا گیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ طلاق کے احکام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت دونوں مشترک ہیں، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} فرمایا، مگر پہلے خاص طور پر آپ کو خطاب آپ کی تعظیم کے لیے ہے، جیسے کسی قوم کے سردار سے کہا جاتا ہے، اے فلاں! تم ایسا کرو، یعنی تم اور تمھاری قوم ایسا کرو۔ گویا یوں فرمایا کہ اے نبی! جب تم لوگ طلاق دو، یعنی آپ اور آپ کی امت طلاق دے۔
➋ {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} (جب تم طلاق دو) سے مراد یہ ہے کہ جب تم طلاق کا ارادہ کرو، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت (۶) {” اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ “} میں ہے۔
➌ {” النِّسَآءَ “} سے مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ نکاح کے بعد دخول ہو چکا ہو، کیونکہ جن عورتوں کو دخول سے پہلے طلاق دے دی جائے ان کی کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے سورۂ احزاب: ۴۹)۔
➍ {فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ: } جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو یہ نہیں کہ جب چاہو طلاق دے دو، بلکہ ان کی عدت کے وقت طلاق دو، یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو تو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر طلاق دو، تاکہ اس کی عدت کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری ہو، کیونکہ اگر تم حالت حیض میں طلاق دوگے تو اگر اس حیض کو عدت میں شمار کرو تو عدت تین حیض سے کم رہ جائے گی اور اگر شمار نہ کرو تو تین حیض سے زیادہ ہو جائے گی، کیونکہ بعد میں آنے والے تین حیضوں کے ساتھ اس حیض کے وہ ایام بھی شامل ہوں گے جو طلاق کے بعد باقی ہوں گے۔ اسی طرح اگر تم انھیں ایسے طہر میں طلاق دو گے جس میں ان کے ساتھ جماع کیا ہے تو ممکن ہے کہ حمل قرار پا جائے، اس صورت میں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت کے لیے تین حیض کا اعتبار ہو گا یا وضع حمل کا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حیض کی حالت میں تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتّٰی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيْضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِيْ أَمَرَ اللّٰهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ] [بخاري، الطلاق، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «یا أیھا النبي…» : ۵۲۵۱] ”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر اسے حیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر چاہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دے، کیونکہ یہ ہے وہ عدت جس کے وقت اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اگر عورت حاملہ ہو تو اسے کسی بھی وقت طلاق دی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی عدت وضع حمل معلوم اور واضح ہے، جیسا کہ آگے {” وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ “} میں آرہا ہے۔
➎ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لیے یہ وقت اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ جہاں تک ہو سکے میاں بیوی کا تعلق قائم رہے، اگر کبھی آدمی کو غصہ آئے تو فوراً طلاق نہ دے بلکہ اس وقت کا انتظار کرے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اتنی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور حیض سے فراغت کے بعد خاوند کو بیوی کی طرف جو رغبت ہوتی ہے وہ طلاق سے باز رکھنے کا باعث ہوگی۔ اسی طرح حمل کی حالت خاوند کو طلاق سے روکنے کا باعث ہے، کیونکہ آنے والے مہمان کی امید اسے اس اقدام سے باز رکھنے والی ہے۔ ان دونوں وقتوں میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ طلاق کسی وقتی اشتعال کی وجہ سے نہیں بلکہ خوب سوچ سمجھ کر دی جا رہی ہے، اس کے بعد عدت کی صورت میں ایک خاصی مدت تک دونوں کو ایک گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا، ہو سکتا ہے کہ ان کا تعلق باقی رہنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ افسوس! مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پروا ہی نہیں کی، (الاّما شاء اللہ) حالانکہ اگر وہ طلاق کے لیے اس وقت کا انتظار کرتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے تو طلاق کی نوبت ہی بہت کم آتی، پھر عدت کی برکت سے دوبارہ رجوع کی بھی بہت امید تھی۔
➏ ایک وقت میں صرف ایک طلاق دینا ہی جائز ہے، اس سے زیادہ دینا حرام ہے۔ اگر کوئی شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے دے تو صرف ایک طلاق ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (230،229)کی تفسیر۔
➐ { وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ: ”أَحْصٰي يُحْصِيْ“} اچھی طرح شمار کرنا، گننا۔ یہ {”حَصًي“} (کنکریاں) سے مشتق ہے۔ عرب اُمی تھے، جب انھیں ایسی چیز گننا ہوتی جو تعداد میں زیادہ ہوتی تو ہر ایک کے لیے ایک کنکری رکھتے جاتے، آخر میں کنکریوں کو گن لیتے۔ {” الْعِدَّةَ “} (بروزن {فِعْلَةٌ}) بمعنی {”مَعْدُوْدٌ“} ہے، گنے ہوئے دن، جیسے {”طِحْنٌ“} بمعنی {”مَطْحُوْنٌ“} (پسا ہوا آٹا) ہے۔ یعنی وہ دن جن کے گزر جانے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح حلال ہو جاتا ہے۔ اس پر ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی وہ عدت جو دوسری آیات میں بتائی گئی ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۲۸۔ طلاق: ۴) عدت کو اچھی طرح گننے کا حکم اس لیے دیا کہ ایسا نہ ہو کہ عدت گزرنے کے بعد بھی تم رجوع کر لو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے نکاح کر لے، جب کہ یہ دونوں کام ناجائز ہیں۔
➑ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ:} ذاتی نام {” اللّٰهَ “} اور وصفی نام {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے، جو ہر لمحے انسان کی پرورش کر رہا ہے، ڈرنے کا حکم دیا، یعنی ان ایام میں طلاق دینے سے اللہ سے ڈرتے رہو جن میں طلاق دینا ممنوع ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی نافرمانی بھی ہے اور عورت کو اذیت رسانی بھی۔ اسی طرح عدت کے ایام میں عورتوں کو گھروں سے نکالنے سے بھی ڈرو۔
➒ { لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ: ” بُيُوْتِهِنَّ “} سے مراد خاوندوں کے گھر ہیں جن میں عورتیں رہ رہی ہیں، ان میں رہنے کی وجہ سے انھیں ان کے گھر فرمایا ہے۔ یعنی عورت کے لیے عدت کے ایام خاوند کے گھر میں گزارنا ضروری ہے، نہ خاوندوں کو انھیں ان کے گھروں سے نکالنے کی اجازت ہے نہ انھیں خود ان سے نکل جانے کی۔ اس کی حکمت آگے {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں بیان فرمائی کہ اتنی مدت ایک گھر میں اکٹھے رہنے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی باہمی صلح اور رجوع کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی وقت الگ ہو گئے اور ملاقات کا موقع ہی نہ رہا تو رجوع کا معاملہ بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا خوف دلا کر نہایت تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا ہے، مگر مسلمانوں نے کم ہی اس کی پروا کی ہے، شاید ہی کوئی ایسا مرد ہو جو طلاق کے بعد عورت کو اپنے گھر میں رہنے دے یا کوئی ایسی عورت ہو جو وہاں رہے۔
➓ { اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ: ” فَاحِشَةٌ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ {” مُبَيِّنَةٍ “} کھلی اور واضح۔ {” بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “} میں زنا، چوری وغیرہ کے علاوہ عورت کا خاوند سے یا اس کے اہلِ خانہ سے بدزبانی اور گالی گلوچ کرنا بھی شامل ہے۔ طبری نے محمد بن ابراہیم کی حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے، انھوں نے فرمایا: [اَلْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُؤَ عَلٰی أَهْلِهَا] ”فاحشہ یہ ہے کہ گھر والوں پر زبان درازی کرے۔“
⓫ {وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ:} یعنی وہ مرد جو عورت کو اس وقت طلاق دیتا ہے جب طلاق دینے کا وقت نہیں، یا عدت میں عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے، یا وہ عورت جو خود ہی نکل جاتی ہے، یہ نہ سمجھیں کہ وہ معمولی خطا کر رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں پھلانگ رہے ہیں اور جو اللہ کی حدیں پھلانگتا ہے یقینا وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے۔
⓬ {لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا:} یعنی طلاق کے بعد عورت کو عدت کے دوران خاوند کے گھر میں رہنے کا حکم اس لیے ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان کی باہمی موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے اور خاوند اس سے رجوع کر لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کے گھر میں رہ کر عدت گزارنے کا حکم اس طلاق میں ہے جس سے رجوع ہو سکتا ہو اور وہ صرف پہلی اور دوسری طلاق ہے، ان دونوں کو رجعی طلاق کہتے ہیں، ان کی عدت کے دوران عورت کی رہائش اور نفقہ خاوند کے ذمے ہے۔ رہی تیسری طلاق کی عدت، تو اگرچہ عورت اس کے دوران آگے نکاح نہیں کر سکتی مگر خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا، اس لیے اس کے دوران اس کی رہائش نہ صرف یہ کہ خاوند کے ذمے نہیں بلکہ اس کا خاوند کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا ہی ٹھیک نہیں، کیونکہ اس میں سابقہ بے تکلفی کی وجہ سے ان کے حد سے تجاوز کا خطرہ ہے جب کہ وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ» [البقرۃ: ۲۳۰] ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔“ اگرچہ بہت سے ائمہ نے اس کی رہائش خاوند کے ذمے قرار دی ہے، مگر اس آیت کے مطابق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے مطابق تیسری طلاق کے بعد اس کی رہائش خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِيْ عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ كَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُوْنٍ، فَلَمَّا رَأَتْ ذٰلِكَ قَالَتْ وَاللّٰهِ! لَأُعْلِمَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَ لِيْ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِيْ يُصْلِحُنِيْ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِيْ نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنٰي] [مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لہا: ۳۷ /۱۴۸۰] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے خاوند نے انھیں طلاق دے دی اور انھیں معمولی خرچہ دیا۔ جب انھوں نے یہ دیکھا تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لاؤں گی، پھر اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو اتنا لوں گی جو میری حالت درست رکھ سکے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گی۔“ فرماتی ہیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے نہ خرچہ ہے نہ رہائش۔“ یاد رہے کہ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ ان کے خاوند نے انھیں تیسری طلاق دے دی تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ بیوہ غیر حاملہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ [2: 239]
2۔ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ [65: 4]
جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت ابوہریرہؓ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا:”ایک عورت کے ہاں اس کا خاوند مرنے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوا؟ اس کی عدت کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”وہ لمبی عدت (چار ماہ دس دن) پوری کرے“ ابو سلمہؓ کہنے لگے: پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا کہ: ”حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے“ اور سیدنا ابوہریرہؓ کہنے لگے: ”میں تو اپنے بھتیجے ابو سلمہؓ کی رائے سے متفق ہوں“ آخر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ کا خاوند (سعد بن خولہ) اس وقت فوت ہوا جبکہ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ خاوند کے چالیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اسے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کی اجازت دے دی۔ ان پیغام دینے والوں میں سے ایک ابو السنابل بھی تھا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ غیر مدخولہ عورت خواہ وہ بیوہ ہو یا مطلقہ اس کی کوئی عدت نہیں۔ [32: 49]
4۔ بے حیض عورت، اسے خواہ ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو یعنی نابالغہ ہو یا بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے آنا بند ہو چکا ہو، کی عدت تین ماہ قمری ہے۔ [65: 4] یعنی اس صورت کی آیت نمبر 4
5۔ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ [65: 4] یعنی اسی سورۃ کی آیت نمبر 4
6۔ حیض والی غیر حاملہ کی عدت تین قروء ہے [2: 228] قرء کا معنی حیض بھی ہے اور حالت طہر بھی۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں جبکہ شافعی اور مالکی تین طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔
طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو تو اسے طہر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کے طلاق دے دی جائے اور پوری عدت گزر جانے دی جائے عدت کے بعد عورت بائن ہو جائے گی۔ اب فرض کیجئے ایک عورت ہندہ نامی کو ہر قمری مہینہ کے ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔ اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد 4 محرم کو طلاق دے دی۔ اب احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض پورے یعنی 3 ربیع الثانی کی شام کو جب وہ حیض سے غسل کرے گی۔ اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جبکہ شوافع اور موالک کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طہر پورے ہو چکے ہوں گے یعنی یکم ربیع الثانی کی صبح کو حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہو جائے گی یعنی تین دن کا فرق پڑ جائے گا۔
1۔ عدت کا مقصد تحفظ نسب اور وراثت کے تنازعات کو ختم کرنا ہے۔ عدت کے اندر اندر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ جس عورت کو صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے اس پر کوئی عدت نہیں [33: 49]
کیونکہ اس صورت میں نہ نسب کے اختلاط کا کوئی امکان ہے اور نہ وراثت کے تنازعہ کا۔
2۔ عدت کے دوران مطلقہ عورت اپنے خاوند کی بیوی ہی رہتی ہے۔ اور اس دوران خاوند کے حقوق کی نگہداشت کو ملحوظ رکھا گیا ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ﴾ [49:33] یعنی خاوند کے ہاں عدت گزارنا مطلقہ عورت کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ حق ہے کہ عورت اسی کے ہاں عدت گزارے اس دوران مرد اس سے صحبت کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ اور وہ عورت کی رضا مندی کے بغیر بھی اپنا یہ حق استعمال کر سکتا ہے۔
3۔ عدت کے دوران کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس عورت سے نکاح تو دور کی بات ہے منگنی کے لیے پیغام تک بھی دے سکے۔ اور اگر خاوند نے عورت کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ گھر پر موجود ہی نہ تھی یا اپنے میکے گئی ہوئی تھی یا اسے اس کے میکے پیغام بھیج دیا گیا تھا اور عورت عدت کے دوران نکاح کر لے تو وہ نکاح باطل ہو گا۔
[4] اللہ کی حدوں کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی (آمنہ بنت غفار) کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمرؓ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر غصہ آگیا اور سیدنا عمرؓ سے فرمایا کہ ”ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کو حکم دو کہ رجوع کر لے اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھے تاآنکہ وہ پاک ہو۔ پھر اسے حیض آئے۔ پھر وہ اس سے پاک ہو۔ پھر اگر طلاق ہی دینا چاہے تو دے دے لیکن طہر کی حالت میں دے اور اس دوران صحبت نہ کرے۔ یہ ہے وہ عدت جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور ﴿طَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ سے یہی مراد ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
1۔ حالت حیض میں طلاق دینا اتنا گناہ کا کام اور اللہ کی حد یا قانون کی خلاف ورزی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ کیونکہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے تین قروء کا شمار درست طور پر نہیں سکتا خواہ قرء کو حیض کے معنی میں لیا جائے یا طہر کے معنی میں۔ طہر کے معنی میں لیا جائے تو طلاق کے بعد حیض کے بقایا ایام عدت سے زائد شمار ہو جاتے ہیں اور اگر حیض کے معنی میں لیا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ آیا اس حیض کو جس میں طلاق دی گئی ہے، شمار کیا جائے یا چھوڑ دیا جائے؟ جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ اللہ کے قانون کی خلاف ورزی ہی ہو گی۔
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”اسے حکم دو کہ رجوع کر لے“ سے معلوم ہوا کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا خلاف سنت اور گناہ کا کام ہے۔ تاہم قانونی لحاظ سے وہ ایک طلاق شمار ہو جائے گی ورنہ رجوع کرنے کا کچھ مطلب ہی نہیں نکلتا۔ اسی بات پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء کہتے ہیں کہ اگرچہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینا خلاف سنت اور حرام ہے تاہم تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
3۔ قیاس کی حد تک تو ان کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس نص کی موجودگی میں کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، دور صدیقی صلی اللہ علیہ وسلم اور دور فاروقی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دو سال تک ایک ہی مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ [مسلم۔ كتاب الطلاق۔ باب طلاق الثلاث]
اس قیاس کی چنداں وقعت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ نص کی موجودگی میں قیاس کرنا ناجائز ہے۔
4۔ طلاق طہر کی حالت میں دینا چاہیے جس میں صحبت نہ کی گئی ہو، اور بہتر صورت یہی ہے طہر کے ابتدا میں طلاق دی جائے۔ البتہ غیر مدخولہ عورت کو طہر اور حیض دونوں صورتوں میں طلاق دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اس سے نہ نسب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور نہ وراثت کے۔ اسی طرح بے حیض عورت یا حاملہ عورت کو مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ان صورتوں میں عدت کا کوئی مقصد مجروح یا مشکوک نہیں ہوتا۔
5۔ طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس طہر میں مرد طلاق دینا چاہے اس میں صحبت نہ کرے۔ پھر ایک ہی بار کی طلاق کو کافی سمجھے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ اس طرح عورت پر طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور اس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ عدت کے آخری وقت تک مرد کو رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ طلاق واقع ہو جانے کے بعد بھی اگر فریقین رضامند ہوں تو تجدید نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
احسن تو یہی صورت ہے جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ اسے طلاق السنۃ بھی کہتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طریق کو پسند فرماتے تھے اور طلاق حسن یہ ہے کہ ہر طہر میں مقاربت کیے بغیر ایک طلاق دے۔ یعنی ایک طہر میں پہلی، دوسرے طہر میں دوسری، اور تیسرے طہر میں تیسری۔ اس صورت میں تیسری طلاق دیتے ہی مرد کا حق رجوع ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عدت ابھی باقی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں فریقین تجدید نکاح بھی نہیں کر سکتے۔ تاآنکہ عورت کسی دوسرے سے غیر مشروط نکاح کرے۔ پھر وہ نیا خاوند اپنی رضا مندی سے کسی وقت اسے طلاق دے دے یا مر جائے تو بعد میں عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔ اس طریقہ طلاق کو عموماً شرعی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میری معلومات کی حد تک یہ طریقہ کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ اس کا ماخذ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کی وہ رائے ہے جو مسند احمد ج 1 ص 265 پر حدیث رکانہ کے آخر میں بایں الفاظ مذکور ہے۔ فکان ابن عباس یری انما الطلاق عندکل طھر یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں بلکہ ہر طہر میں الگ الگ ہونی چاہئیں۔ اور امام شافعی اس طرح کی طلاق کو بھی خلاف سنت کہتے ہیں۔
علاوہ ازیں یہ انداز فکر ہی درست نہیں کہ جسے کسی گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر دنیا میں کوئی سزا نہ ملے یا اس کا کوئی نقصان نہ ہو وہ اپنے نفس پر کچھ ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ اصل نقصان تو آخرت کا نقصان ہے۔
[6] نئی صورت سے مراد مصالحت، رضا مندی اور رجوع کی وہ راہیں ہیں جو طلاق کے بعد فریقین کو ہوش میں آنے اور طلاق کے نقصانات پر غور کرنے کے بعد درست نظر آنے لگتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» } ۱؎ [65-الطلاق:1] ۱؎ [صحیح مسلم:1471]
دوسری روایت میں «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔
طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟
طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»
«فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔
اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔
ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔“
مسلم میں ہے { نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1480]
طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ }۔ ۱؎ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخاطباً لنبيِّه [محمد]- صلى الله عليه وسلم - وللمؤمنين: {يا أيُّها النبيُّ إذا طلَّقْتُم النساءَ}؛ أي: [إذا] أردتم طلاقهنَّ، {فـ}: التمسوا لطلاقهنَّ الأمر المشروع، ولا تبادروا بالطَّلاق من حين يوجد سببه من غير مراعاةٍ لأمر الله، بل {طلِّقوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ}؛ أي: لأجل عدَّتهن؛ بأن يطلِّقَها زوجها وهي طاهرٌ في طهرٍ لم يجامِعْها فيه؛ فهذا الطلاق هو الذي تكون العدَّة فيه واضحةً بيِّنة؛ بخلاف ما لو طلَّقَها وهي حائضٌ؛ فإنَّها لا تحتسب تلك الحيضة التي وقع فيها الطلاق، وتطول عليها العدَّة بسبب ذلك، وكذلك لو طلَّقَها في طهرٍ وطئ فيه؛ فإنَّه لا يؤمَن حملها، فلا يتبيَّن ولا يتَّضح بأيِّ عدَّةٍ تعتدُّ، وأمر تعالى بإحصاء العدَّة، أي: ضبطها بالحيض إن كانت تحيض، أو بالأشهر إن لم تكن تحيضُ وليست حاملاً؛ فإنَّ في إحصائها أداءً لحقِّ الله، وحق الزوج المطلِّق، وحقِّ من سيتزوجها بعد، وحقِّها في النفقة ونحوها؛ فإذا ضبطت عدَّتها؛ علمت حالها على بصيرةٍ، وعلم ما يترتّب عليها من الحقوق وما لها منها، وهذا الأمر بإحصاء العدَّة يتوجَّه للزوج وللمرأة إن كانت مكلَّفة، وإلاَّ؛ فلوليِّها. وقوله: {واتَّقوا الله ربَّكم}؛ أي: في جميع أموركم، وخافوه في حقِّ الزوجات المطلَّقات.
فـ {لا تخرجوهنَّ من بيوتهنَّ}: مدة العدَّة، بل تلزم بيتها الذي طلَّقها زوجها وهي فيه. {ولا يَخْرُجْنَ}؛ أي: لا يجوز لهنَّ الخروج منها، أما النَّهي عن إخراجها؛ فلأنَّ المسكن يجب على الزوج للزوجة لتستكمل فيه عدَّتها التي هي حقٌّ من حقوقه، وأما النهي عن خروجها؛ فلما في خروجها من إضاعة حقِّ الزوج وعدم صونه، ويستمرُّ هذا النهي عن الخروج من البيوت والإخراج إلى تمام العدَّة. {إلاَّ أن يأتينَ بفاحشةٍ مُبَيِّنَةٍ}؛ أي: بأمر قبيح واضح موجبٍ لإخراجها؛ بحيث يُدْخِلُ على أهل البيت الضَّرر من عدم إخراجها؛ كالأذى بالأقوال والأفعال الفاحشة؛ ففي هذه الحال يجوز لهم إخراجُها؛ لأنَّها هي التي تسبَّبت لإخراج نفسها، والإسكانُ فيه جبرٌ لخاطرها ورفقٌ بها؛ فهي التي أدخلت الضرر عليها. وهذا في المعتدَّة الرجعيَّة، وأمَّا البائن؛ فليس لها سكنى واجبةٌ؛ لأنَّ السكنى تبعٌ للنفقة، والنفقة تجب للرجعيَّة دون البائن.
{وتلك حدودُ الله}؛ أي: التي حدَّها لعباده وشرعها لهم وأمرهم بلزومها والوقوف معها، {ومن يتعدَّ حدودَ الله}: بأن لم يقف معها، بل تجاوَزها أو قصَّر عنها، {فقد ظلم نفسَه}؛ أي: بخسها حقَّها ، وأضاع نصيبه من اتِّباع حدود الله التي هي الصلاحُ في الدُّنيا والآخرة. {لاتَدْري لعلَّ الله يحدِثُ بعد ذلك أمراً}؛ أي: شرع الله العدَّة، وحدَّد الطلاق بها لحِكَم عظيمةٍ: فمنها: أنَّه لعلَّ الله يحدِثُ في قلب المطلِّق الرحمة والمودَّة، فيراجع من طلَّقها، ويستأنف عشرتها، فيتمكَّن من ذلك مدَّة العدة، أو لعلَّه يطلِّقها لسبب منها، فيزول ذلك السبب في مدَّة العدَّة، فيراجعها؛ لانتفاء سبب الطلاق.
ومن الحِكَم أنَّها مدة التربُّص يُعلم براءة رحمها من زوجها.