حالت مباشرت میں پہنے گئے کپڑوں کا حکم

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال : کیا ان کپڑوں میں نماز پڑھنا جائز ہے جو حالت مباشرت میں پہنے ہوئے ہوں ؟
جواب : قرآن و سنت کی رو سے جس مرد نے جس کپڑے کے ساتھ اپنی بیوی سے صحبت کی اگر اس کپڑے میں پلیدی نہیں لگی تو اس کپڑے میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ اگر کپڑے کو منی لگ جائے تو تری کی صورت میں دھو ڈالے، دھونے کے بعد اگر کپڑے میں نشان دکھائی دے تو کوئی حرج نہیں اور منی اگر خشک ہو جائے تو اس کو کھرچ دینا ہی کافی ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں :
”میں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جو نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، سے دریافت کیا : ”نبی صلى اللہ علیہ وسلم جس کپڑے میں مباشرت کرتے تھے کیا اسی میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟“ تو انہوں ہے کہا: ’’ ہاں ! جب اس میں گندگی نہ دیکھتے۔ “
[ابوداؤد، كتاب الطهارة : باب الصلاة فى الثوب الذى يصيب اهله فيه : 366۔ نسائي 155/1۔ ابن ماجه : 192/1 ]

 

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

حالت مباشرت میں پہنے گئے کپڑوں کا حکم