مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جو انسان بغیر عذر روزے نہ رکھتا ہو اس کا حکم؟

فونٹ سائز:
سوال : اس مسلمان کا کیا حکم ہے جس نے مختلف سالوں میں رمضان کے کئی مہینے بغیر صوم کے گزارے، اس اثناء میں وہ بقیہ فرائض ادا کرتا رہا۔ اور اپنے وطن سے دور مسافرت کی زندگی گزارتا رہا اور صوم رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ کیا توبہ کرنے پر یا اپنے وطن واپس ہونے پر اس پر قضا ضروری ہے ؟
جواب : صیامِ رمضان اسلام کا ایک اہم رکن ہے، مکلف شخص کا قصداً ان صیام کا چھوڑنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ بعض علماء کے قول کی بنا پر ایسا شخص کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ایسے شخص پر ضروری ہے کہ وہ خالص توبہ کرے اور نوافل وغیرہ اعمال صالحہ کثرت سے کرتا رہے اور اسلامی احکام و شرائع جیسے صلاۃ، صیام، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کرے۔ علماء کے صحیح ترین قول کی بنا پر ایسے شخص پر قضا نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کا جرم اتنا بڑا ہے کہ قضا سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ اور توفیق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وصلی اللہ وسلم علی نبینامحمد وآلہ وصحبہ۔
’’ اللجنۃ الدائمۃ“

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔