مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بے نمازی سے شادی کا شرعی حکم قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

کیا کوئی شخص اپنی بیٹی کا رشتہ بے نمازی سے کر سکتا ہے؟

جواب:

بے نمازی کو لڑکی کا رشتہ نہیں دینا چاہیے، بشرطیکہ لڑکی صوم و صلاۃ کی پابند ہو۔ قرآن مجید میں ہے:
﴿أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً لا يَسْتَوُونَ﴾
(السجدة: 18)
”کیا ایک مومن کسی فاسق کی طرح ہو سکتا ہے؟ یہ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔“
چونکہ بے نمازی فاسق مرد صوم و صلاۃ کی پابند عورت کا کفو نہیں ہو سکتا۔ لہذا ایسے لڑکے کو رشتہ نہیں دینا چاہیے، البتہ اگر لڑکی بھی بے نمازی ہے تو الگ بات ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔