سوال :
شوہر اپنی بیوی کو طلاق کسی صورت میں دے سکتا ہے، نیز مشترکہ عورت جو اپنے شرک سے باز نہ آئے، کیا اس کو بھی طلاق دے سکتا ہے؟
جواب :
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمان شخص کو یہ تعلیم دی ہے کہ جس قدر بھی ممکن ہو وہ اپنی بیوی کو آباد کرنے کی بھر پور کوشش کرے، اس لیے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:
﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا . وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾
(النساء : 34-35)
”وہ عورتیں جن کے بگڑ جانے کا تمھیں خوف ہو، انھیں وعظ کرو اور بستروں میں ان سے الگ ہو جاؤ اور ان کو مارو، اگر وہ تمھاری اطاعت کر لیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرو۔ یقیناً اللہ بلند تر، بڑائی والا ہے۔ اور اگر تمھیں ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان جدائی کا خوف ہو تو ایک فیصل مرد کے اہل سے اور ایک فیصل عورت کے اہل سے بھیج دو، اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا، بے شک اللہ تعالیٰ علم والا، خبر والا ہے۔“
یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ جب عورت خاوند کی اطاعت نہ کرے، بگاڑ پیدا کرے تو اول مرد کو وعظ و نصیحت سے کام لینا چاہیے، پھر عورت سے بستر جدا کرنے، اگر پھر بھی بات نہ بنے تو مار سکتا ہے اور اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو ایک فیصلہ کرنے والا مرد کے اہل سے اور ایک عورت کے اہل سے بلا کر مسئلہ حل کیا جائے۔ اسلام کی اس پیاری تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ مرد کو چاہیے کہ حتی الوسع نباہ کی پوری کوشش کرے، بصورت دیگر طلاق سے کام لے سکتا ہے اور طلاق کے احکامات اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں بیان فرمائے ہیں۔
رہا مشرکہ عورت سے نکاح کا مسئلہ تو مسلمان کے لیے مشرکہ عورت سے نکاح کرنا ہی درست نہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾
(البقرة : 221)
”اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔“
البتہ اللہ کی کتاب پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والی عورت سے نکاح جائز ہے، خواہ وہ شرک ہی کرتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مائدہ کی آیت (5) میں کتابیہ عورت سے نکاح کی اجازت دی ہے، اگر وہ پاک دامن ہو، چھپی دوستی لگانے والی نہ ہو اور ایمان کے ضیاع کا اندیشہ نہ ہو۔