«انی جاعل فی الارض خلیفۃ» کا مفہوم: کیا آدمؑ سے پہلے زمین پر مخلوق آباد تھی؟

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

29- إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً کا مفہوم

سوال:

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ [البقرة: 30]
”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ انھوں نے کہا کیا تو اس میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور بہت سے خون بہائے گا اور ہم تیری تعریف کے ساتھ ہر عیب سے پاک ہونا بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا بے شک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا کیا؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر فرشتوں کو کیسے علم ہوا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا؟ اور خلیفہ بنانے کا کیا مطلب ہے اور خلیفہ بھی کس کا؟

جواب:

اس آیت کریمہ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام ہی کو انسان بنا کر اس سے پہلے زمین میں جو مخلوق آباد تھی، اس کا خلیفہ مقرر فرما دیا۔ اور یہ مخلوق زمین میں فساد کرتی تھی۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے یا دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے علم کی بنا پر فرشتوں نے کہا کہ یہ بھی زمین پر فساد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ اور اس خلیفہ کا کام یہ ہوگا کہ زمین میں شریعت، دین، توحید کی دعوت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر ایمان جیسی چیزوں کو پھیلائے گا اور اسے عام کرے گا اور یہی کام اس کی اولاد کرتی رہے گی۔ اس کی اولاد میں انبیاء، رسول، انتہائی نیک علماء اور خالصتاً اللہ کی عبادت کرنے والے لوگ ہوں گے جس کے نتیجے میں ایک اللہ کی عبادت، شریعت کا نفاذ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے کام انجام پائیں گے۔
لہٰذا انبیاء، رسول، نیک علماء اور مخلصین کی کوشش اور محنتوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ حکمت پوری ہوئی اور دین اسلام کو غلبہ نصیب ہوا تو بعد میں فرشتوں کو بھی معلوم ہوگیا کہ آدم کو پیدا کرنا محض فساد نہیں بلکہ اس میں بہت خیر ہے۔ آدم سے پہلے اس دنیا میں جن آباد تھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آدم سے پہلے جو بھی مخلوق آباد تھی، اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس کے بعد آباد کیا۔ اس مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی پختہ اور قطعی دلیل نہیں جس کے ذریعے سے اس مخلوق کی تعیین اور اس کی صفات بیان کر سکیں اور یہ بتا سکیں کہ وہ زمین میں کیا کام کرتے تھے، لیکن آدم علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کرنے سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ کوئی مخلوق آباد ضرور تھی، لہٰذا آدم کو اظہار حق اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی شریعت کو بیان کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کے قرب کا ذریعہ بننے والی چیزوں کو بیان کرنے کے لیے مقرر فرمایا اور زمین میں ہونے والے فسادات کی روک تھام کے لیے پیدا فرمایا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد نے بھی اس فریضہ کو سرانجام دیا، زمین کو اللہ کی اطاعت، توحید اور اس کی شریعت کے مطابق فیصلوں کے ذریعے سے آباد کیا اور مخالفت کرنے والوں کو روکنے کی پوری کوشش کی اور یہ سارے کا سارا کام انبیاء و صالحین کے حصے آیا۔ (ابن باز: نور علی الدرب: 40/1)