شفاعت مگر اجازت سے :
رسول کریم سید الشفعاء ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت دیگر تمام شفاعتوں سے اعظم و اکبر ہے اور آپ کا مرتبہ اللہ کے ہاں تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے۔ مخلوق خدا قیامت کے دن جب سیدنا آدم، نوح، ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام سے طالب شفاعت ہوگی تو ہر نبی اس ذمہ داری کو دوسرے پر ڈالے گا حتیٰ کہ جب معاملہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے گا تو وہ فرمائیں گے: تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جاؤ وہ ایسے نبی ہیں جن کی اگلی پچھلی تمام خطائیں اللہ نے معاف فرمادی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب مخلوق میرے پاس آئے گی تو میں اٹھوں گا اور فرمایا:
فأذهب فإذا رأيت ربي خررت له ساجدا وأحمد ربي بمحامد يفتحها على لا أحسنها الآن فيقال أى محمد ارفع رأسك وقل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع قال فيحد لي حدا فأخرجهم فأدخلهم الجنة
”میں جاؤں گا۔ پس جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا اور اپنے رب کی ایسی تعریفیں بیان کروں گا جو اب انہیں میں اچھی طرح نہیں جانتا، پس کہا جائے گا: محمد! سر اٹھاؤ اور کہو سنا جائے گا اور مانگ دیا جائے گا اور شفاعت کرو قبول ہوگی۔ آپ نے فرمایا: میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی اسی حد کے اندر میں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“
صحیح بخارى كتاب الرقاق : باب صفة الجنة والنار حديث : (2525) صحیح مسلم۔ کتاب الایمان : باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها (حديث : 193)
پس جو شخص اہل کبائر کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انکار کرتا ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہے۔ جیسے خارجی اور معتزلہ وغیرہ۔
اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ مخلوق میں سے کچھ ایسے افراد بھی ہوں گے جو اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت کریں گے تو اس نے قرآن کریم اور اجماع امت کی تکذیب اور مخالفت کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
”کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟“
(2-البقرة:255)
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارتَضَىٰ
”وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو۔“
(21-الأنبياء:28)
وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ ﴿٢٦﴾
”آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔“
(53-النجم:26)
يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا ﴿١٠٨﴾ يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا ﴿١٠٩﴾
”اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ اس دن شفاعت کارگر نہ ہوگی، الا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے۔“
(20-طه:108-109)
مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِن بَعْدِ إِذْنِهِ
”کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے الا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔“
(10-يونس:3)
مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ
”اس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا۔“
(32-السجدة:4)
اس موضوع پر قرآن کریم میں بے شمار آیات ہیں۔