مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اسلامی ترانے: جائز حدود اور شرعی شرائط

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

اکثر نوجوانوں کے درمیان رائج ترانوں کا کیا حکم ہے ، جبکہ وہ ان کا نام ”اسلامی ترانے“ رکھتے ہیں ؟

جواب:

اگر یہ ترانے اسلامی مفہوم و معانی پر مشتمل ہوں اور ان کے ساتھ کوئی ساز اور آلات موسیقی نہ ہوں جیسے دف اور طبلے وغیرہ تو ان ترانوں میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
لیکن ان ترانوں کے جواز کی ایک اہم شرط بیان کرنا لازم اور ضروری ہے اور وہ یہ کہ وہ ترانے مخالفات شرعیہ ، جیسے لغو وغیرہ ، سے خالی اور محفوظ ہوں ۔
پھر ان کے لیے ایک اور شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ ان ترانوں کے سماع کو عادت نہ بنایا جائے ، کیونکہ اس کو عادت بنانا سامعین کو قرآن مجید کی تلاوت سے دور کر دے گا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ میں تلاوت قرآن پر برانگیخت کیا گیا ہے ۔ اور ایسے ہی ترانے سننے میں مشغول رہنا ان کو نفع مند علم حاصل کرنے سے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے دور کر دے گا ۔
رہا ترانوں کے ساتھ دف کا استعمال تو یہ عورتوں کے لیے آپس میں مردوں کے علاوہ جائز ہے اور وہ بھی صرف عید اور نکاح کے موقع پر ۔
( محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔