اذان سننا اور مؤذن کے کلمات کا جواب دینا مشروع ہے

فونٹ سائز:

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ ، اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ” .

´ہم سے علی بن عیاش ہمدانی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن المنکدر سے بیان کیا ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ` جو شخص اذان سن کر یہ کہے «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اسے قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی ۔

تحقیق و تخریج :  صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 614

 

فوائد :

➊ اذان کا جواب دینا مسنون ہے اذان کا جواب بالکل وہی دینا چاہیے جو مؤذن بول رہا ہے ۔
➋ اذان سننا اور مؤذن کے کلمات کا جواب دینا مشروع ہے پاکی ناپاکی دونوں میں درست ہے لیکن بیت الخلاء میں یا بول و براز کی مصروفیت میں اذان کا جواب دینے سے رکنا چاہیے ۔
➌ اللہ تعالیٰ کی مساجد سے گونج کر آنے والی صداؤں کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ۔ ہم زیادہ حق دار ہیں کہ اللہ کے پیغام کو دل جمعی سے سنیں ۔ اور اس کا جواب دیں اذان کا احترام اتنا ہی کافی ہے کہ اس کو سنیں اور جواب دیں اور بعد میں دعا ، درود پڑھیں ۔ مؤذن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اذان معتدل انداز سے دے ۔ اذان کو حد سے بڑھ کر طویل کرنا یا بالکل چھ سات سیکنڈ میں اذان کہنا درست نہیں ہے ۔
➍ اذان کا جواب چلتے ہوئے ، بیٹھ کر لیٹے ہوئے اور دیگر انداز سے دینا درست ہے اذان کو سننے کے لیے رک جانا یا کھڑے ہیں تو فوراً بیٹھ جاتا ۔ یا جب تک سر پر ٹوپی کپڑا نہ ہو اس وقت تک جواب نہ دینا یہ تکلفات ہیں سوائے پیشاب جماع یا بیت الخلا میں بیٹھے کے ، پاکی ناپاکی میں جواب دیا جا سکتا ہے ۔ اذان کا جواب اس طرح ہے کہ کبھی اذان کو مؤذن کے پیچھے پیچھے دہرائے جائیں حي على الصلواة اور حي على الفلاح پر لاحول ولاقوة الا بالله کہنا ہے باقی سبھی اذان اسی طرح کہنا ہے ۔ اذان کے بعد یہ دعا اللهم رب هذه الدعوة … پڑھنی چاہیے اس کے بعد درود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں ۔
➎ اذان کا جواب صدق دل سے دینا جنت میں دخول کا ذریعہ ہے اور اذان کے بعد دعا پڑھنا روز قیامت شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت کا باعث ہے۔

[یہ مواد شیخ تقی الدین ابی الفتح کی کتاب ضیاء الاسلام فی شرح الالمام باحادیث الاحکام سے لیا گیا ہے جس کا ترجمہ مولانا محمود احمد غضنفر صاحب نے کیا ہے]