ائمہ حدیث کے نزدیک بقیہ عن بحیر سماع پر محمول نہیں!
محدثین بقیہ عن بحیر کی سند پر (تدلیس کو لے کر) جرح کرتے آئے ہیں، اور بقیہ کی بحیر سے روایات میں بھی سماع کی صراحت کو ضروری سمجھتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب ہونے کی کوئی حقیقت نہیں، اور نہ ہی اس اصول کی کوئی اصل ہے کہ بقیہ کی بحیر سے روایت سماع پر محمول ہوتی ہے اگرچہ وہ سماع کی تصریح کرے یا نہ کرے۔
امام ابوالعباس البوصیری رحمہ اللہ:
بقیہ بن الولید عن بحیر بن سعد عن خالد بن معدان عن المقدام بن معد کی سند سے مروی ایک حدیث کے بارے میں کہتے ہیں:
هذا إسناد ضعيف لتدليس بقية۔
”یہ سند بقیہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔“ (مصباح الزجاجۃ:26/3)
امام عبدالعظیم المنذری رحمہ اللہ بقیہ عن بحیر کے طریق سے مروی ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
رواه أحمد، وفيه بقية ولم يصرح بالسماع۔
”اسے امام احمد نے روایت کیا ہے (مسند احمد:8737)، اس میں بقیہ ہے اور اس نے سماع کی تصریح نہیں کی۔“ (الترغیب والترہیب:389/2)
امام ہیثمی رحمہ اللہ بھی اسی روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
رواه أحمد، وفيه بقية وهو مدلس، وقد عنعنه۔
”اسے امام احمد نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں بقیہ ہے اور وہ مدلس ہے، اور یہاں وہ صیغہ عن سے روایت بیان کر رہا ہے۔“ (مجمع الزوائد:103/1)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
رواه أحمد، وفيه بقية بن الوليد وقد عنعنه، وهو مدلس۔ (مجمع الزوائد:245/1)
حالانکہ یہ روایت بھی بقیہ عن بحیر کے طریق سے ہے۔ (مسند احمد:7076)
آپ کہتے ہیں کہ بقیہ عن بحیر والی روایت سماع پر محمول ہے حالانکہ ائمہ تو یہاں سماع کی تصریح کی نفی کر رہے ہیں! اور اس کی تدلیس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
امام ابن ملقن رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
قال الشيخ تقي الدين: وقال شيخنا – يعني: الشيخ زكي الدين -: في إسناده بقية، وفيه مقال۔ قال الشيخ: قلت في المستدرك من طريق بقية "نا بحير” فعلى هذا سلم من تهمة التدليس من بقية في روايته عن بحير۔
”شیخ تقی الدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے استاد زکی الدین رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی سند میں بقیہ ہے اور اس پر کلام (جرح) موجود ہے۔ شیخ تقی الدین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ المستدرک میں (یہ روایت) بقیہ حدثنا بحیر کے طریق سے ہے، تو اس سے بقیہ کی عن بحیر والی روایت تدلیس سے سلامت ہو جاتی ہے۔“ (البدر المنیر:240/2)
غور کیجیے جب بقیہ نے ”حدثنا بحیر“ کہا پھر ہی سند کو تدلیس سے سلامت قرار دیا گیا یعنی جب ”عن بحیر“ تھا تو تدلیس سے سلامت نہیں تھی۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ایک جگہ لکھتے ہیں:
وقد أمن تدليسه لتصريحه في هذا بالتحديث، لكن ينظر في حديث بحير عن خالد لأن بقية كان يُسوي۔
”بقیہ نے یہاں سماع کی صراحت کر کے اپنی تدلیس سے بے خوف کر دیا ہے، لیکن بحیر ”عن“ خالد کو دیکھا جائے گا، کیوں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا۔“ (اتحاف المہرۃ:233/13)
لیجیے حافظ رحمہ اللہ نے بھی بقیہ کی بحیر سے روایت کو تب ہی تدلیس کے شبہ سے خالی قرار دیا کہ جب اس نے بحیر سے سماع کی صراحت کی، لہٰذا آپ کے بیان کردہ قاعدے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بلکہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ صرف یہیں نہیں رکے بلکہ بحیر ”عن“ خالد کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ یہاں بھی تدلیس کا خدشہ ہے کیوں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا۔ حالانکہ جب روایت کتاب سے ہو تو تدلیس کی بحث چھیڑی ہی نہیں جاتی۔
لہٰذا ان دلائل سے ثابت ہوا کہ محدثین کے نزدیک بقیہ کا ہر صورت میں اپنے سماع کی صراحت کرنا لازمی ہے چاہے وہ بحیر ہی سے روایت کرے، اور ان کے نزدیک اس بات کی کوئی حقیقت نہیں کہ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب تھی۔ ورنہ تو یہ بات کثرت سے نقل ہوتی اور محدثین کے کلام میں اس کا اکثر ذکر ملتا، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، بلکہ معاملہ اس کے خلاف ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کا یہ مدعا تو بے کار اور باطل ٹھہرا۔