حاملہ بیوہ کی عدت کتنی ہو گی؟

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

سوال: خاوند کی وفات کے وقت بیوی حاملہ تھی، شریعت کی روشنی مین اس کی عدت کتنی ہو گی ؟

جواب : خاوند کی وفات ہو یا طلاق، دونوں حالتوں میں حاملہ کی عدت وضعِ حمل ہے، یعنی جب تک عورت بچے کو جنم نہ دے لے، عدت میں رہے گی اور بچے کی ولادت کے ساتھ ہی عدت ختم ہو جائے گی، خواہ چند دن یا چند لمحے ہی گزرے ہوں۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [ الطلاق 65 : 4 ]
”اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کو جنم دے دیں۔ “
سیدہ سُبَیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا حاملہ تھیں، ان کے خاوند فوت ہو گئے۔ چند دنوں بعد ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نیا نکا ح کرنے کی اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري : 5318، 6906، صحيح مسلم : 1485 ]
نیز دیکھیں : [ صحيح البخاري : 5319، صحيح مسلم : 1484، صحيح البخاري : 5320 ]
◈ امام ترمذی رحمہ الله فرماتے ہیں :
والعمل على هذا عند أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم وغيرهم، ‏‏‏‏‏‏أن المتوفى عنها زوجها، اذا وضعت، فقد حل لها التزويج، وان لم تكن انقضت عدتها
اکثر اہلِ علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام بھی شامل ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو تو بچے کی ولادت کے بعد اس کے لیے نکا ح کرنا جائز ہے، خواہ اس کی عدت کا عرصہ ابھی نہ گزرا ہو۔ “ [سنن الترمذي، تحت الحديث : 1193 ]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل