1 📘 ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت
❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾
ترجمہ: قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔
📖 سورۃ الفجر: 1–2
مفسرین کے مطابق اس سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں۔
🔗 https://tohed.com/tafsir/89/2/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ان دس دنوں میں کیے گئے اعمال سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں ہے۔“
لوگوں نے پوچھا: اور جہاد میں بھی نہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ہاں، جہاد میں بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنا مال و جان لے کر جہاد کے لیے نکلا اور واپس ساتھ کچھ نہ لایا، یعنی شہید ہو گیا۔“
📖 صحیح بخاری: 969
📖 سنن ابوداؤد: 2438
📖 سنن ابن ماجہ: 1727
📖 سنن ترمذی: 757
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/969/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2438/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1727/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان پہلے دس دنوں سے زیادہ کوئی دن برتر نہیں، نہ ہی ان ایام میں کیے گئے اعمال سے کوئی عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ پس ان دنوں میں کثرت سے اللہ کی تہلیل، کبریائی اور تعریف کیا کرو۔“
📖 مسند احمد: 2/75
2 📘 اللہ تعالیٰ کی خاطر اعمال کرنا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ﴾
ترجمہ: اور وہ لوگ اللہ کی راہ میں جو کچھ دینا ہوتا ہے دیتے ہیں، اور پھر بھی ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے پاس واپس جانا ہے۔
📖 سورۃ المؤمنون: 60
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو زنا، چوری اور شراب نوشی کا مرتکب ہوتا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نہیں، اے صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ آدمی ہے جو روزہ رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے، اور اسے ڈر رہتا ہے کہ شاید اس کا عمل قبول نہ ہو۔“
📖 سنن ابن ماجہ: 4198
📖 سنن ترمذی: 3175
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4198/
➖➖➖➖➖➖➖
📘 دکھاوے اور شہرت کے لیے اعمال کرنا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو کسی نیک کام میں دکھلاوا کرے گا، اللہ اس کی بدنیتی کی حقیقت قیامت کے دن ظاہر کر دے گا، اور جو شہرت کے لیے نیکی کرتا ہے، اللہ اس کی تشہیر روزِ قیامت کر دے گا۔“
📖 صحیح بخاری: 6499
📖 صحیح مسلم: 2987
📖 سنن ابن ماجہ: 4207
📖 سنن ترمذی: 2381
📖 مسند احمد: 4013
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/6499/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2987/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4207/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے بظاہر میرے لیے عمل کیا، اس میں میرے سوا کوئی اور شریک کر لیا تو میں اس سے لاتعلق ہو جاتا ہوں، اور وہ عمل اسی کے لیے ہوتا ہے جسے اس نے میرا شریک بنایا۔“
📖 صحیح مسلم: 2985
📖 سنن ابن ماجہ: 4202
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2985/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4202/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہوں گے، تب اعلان کیا جائے گا: جس نے اللہ کے لیے کیے گئے عمل میں کسی کو شریک کیا، وہ اس عمل کا ثواب غیر اللہ ہی سے مانگے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“
📖 سنن ابن ماجہ: 4203
📖 سنن ترمذی: 3154
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4203/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا:
”کیا میں تمہیں دجال کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک بات سے آگاہ نہ کروں؟“
ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، فرمائیے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”شرکِ خفی، یعنی چھپا ہوا شرک، دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو اور نماز کو اس لیے خوبصورت، یعنی لمبا، کرے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔“
📖 سنن ابن ماجہ: 4204
📖 مسند احمد: 3/30
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4204/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کا صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔“
📖 مسند احمد: 43
3 📘 عشرہ ذوالحجہ میں کرنے والے بہترین اعمال صحیح احادیث کی روشنی میں
➖➖➖➖➖➖➖
📌 ناخن اور بال نہ کٹوانا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ 10 ذوالحجہ کو ذبح کرنا چاہتا ہو، تو ذوالحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد اپنے سر، بغل اور زیرِ ناف بال نہ کٹوائے اور نہ ہی ناخن ترشوائے، حتیٰ کہ وہ قربانی کر لے۔“
📖 صحیح مسلم: 1977
📖 سنن ابوداؤد: 2791
📖 سنن ترمذی: 1523
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1977/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2791/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مجھے اضحیٰ کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطورِ عید مناؤں، جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے۔“
ایک آدمی نے پوچھا:
اگر مجھے دودھ دینے والے جانور کے سوا کوئی اور جانور نہ ملے تو کیا میں اس جانور کی قربانی کروں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نہیں، بلکہ نمازِ عید کے بعد تم اپنے سر کے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو، بغل اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کر لو۔ اللہ عزوجل کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہے۔“
📖 سنن ابوداؤد: 2789
📖 سنن نسائی: 4370
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2789/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/4370/
➖➖➖➖➖➖➖
📌 نماز
فرائض کی طرف جلدی کرنا اور زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرنا، کیونکہ اللہ کے نزدیک یہ سب سے افضل عمل ہے۔
❀ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”اللہ کے آگے کثرت سے سجدہ ریز ہوا کر، اللہ کے آگے ایک سجدہ کرنے سے اللہ تیرا ایک درجہ بلند فرما دے گا اور تیری ایک خطا مٹا دے گا۔“
📖 صحیح مسلم: 1093
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1093/
➖➖➖➖➖➖➖
📌 روزے
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار کام نہیں چھوڑتے تھے:
➊ عاشورہ کا روزہ
➋ عشرہ ذوالحجہ کے روزے
➌ ایامِ بیض کے، یعنی ہر مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ کے تین روزے
➍ فجر کی دو سنتیں
📖 مسند احمد: 287/6
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے پہلے 9 دن، عاشورہ محرم، اور ہر ماہ کی پہلی سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔
📖 سنن ابوداؤد: 2437
📖 سنن نسائی: 2374
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2437/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2374/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یومِ عرفہ کے روزہ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہ معاف فرما دیں گے۔“
📖 صحیح مسلم: 1162
📖 سنن ترمذی: 749
4 📘 ادائیگیٔ عمرہ و حج
❀ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾
ترجمہ:
اور جو کوئی اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس گھر کا حج کرے، اور جو کوئی استطاعت کے باوجود اس حکم سے انکار کرے تو یاد رکھو، اس سے اللہ کو تو کچھ بھی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اللہ تو دنیا جہان سے بے نیاز ہے۔
📖 سورۃ آل عمران: 97
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/97/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس شخص نے اللہ کے گھر کا حج کیا اور بے ہودگی و فسق و فجور سے بچا رہا تو وہ اس حالت میں لوٹے گا جیسے ماں کے بطن سے آج ہی پیدا ہوا ہے۔“
📖 صحیح بخاری: 1521
📖 صحیح مسلم: 1536، 1350
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1521/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1536/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1350/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”حجِ مبرور، یعنی اللہ کی بارگاہ میں مقبول حج، کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔“
📖 صحیح بخاری: 1773، 1820
📖 صحیح مسلم: 1349
📖 سنن نسائی: 2628
📖 سنن ابن ماجہ: 2888، 2889
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1773/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1820/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1349/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2628/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/2888/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/2889/
➖➖➖➖➖➖➖
📘 تہلیل، تکبیر اور تحمید
❀ رب العالمین نے فرمایا:
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾
ترجمہ:
اور تمہارے رب کا حکم ہے کہ گنتی کے ان چند دنوں میں اللہ کو یاد کرتے رہو۔
📖 سورۃ البقرۃ: 203
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/203/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ کوئی دن برتر نہیں، اور نہ ہی ان ایام میں کیے گئے اعمال سے کوئی عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ پس ان دنوں میں کثرت سے اللہ کی تہلیل، تکبیر یعنی کبریائی، اور تحمید یعنی تعریف کیا کرو۔“
📖 مسند احمد: 2/75
➖➖➖➖➖➖➖
📌 تہلیل:
لَا إِلٰهَ إِلَّا الله
📌 تکبیر:
اللهُ أَكْبَر
📌 تحمید:
الْحَمْدُ لِلّٰه
تہلیل، تکبیر اور تحمید علیحدہ علیحدہ تمام احادیث کی کتب میں موجود ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اذکار کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ان دنوں میں اللہ کی کبریائی بیان کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہن عیدین میں تکبیرات کہتے تھے۔
➖➖➖➖➖➖➖
❀ اللهُ أَكْبَر، اللهُ أَكْبَر، اللهُ أَكْبَر كَبِيرًا
📖 بیہقی: 3/316
یہ تکبیر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
❀ اللهُ أَكْبَر، اللهُ أَكْبَر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَر، اللهُ أَكْبَر، وَلِلّٰهِ الْحَمْد
📖 ابن ابی شیبہ: 2/187
یہ تکبیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتے، اور لوگ ان بزرگوں کی تکبیر سن کر تکبیر کہتے۔ اور محمد بن باقر نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے۔
📖 صحیح بخاری، قبل از حدیث: 969
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/969/
➖➖➖➖➖➖➖
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں عیدگاہ کی طرف جانے کا حکم تھا۔ کنواری لڑکیاں اور حیض والیاں بھی پردہ میں باہر آتیں۔ یہ سب مردوں سے پیچھے رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے، یہ بھی تکبیر کہتیں، اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی دعا کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔
📖 صحیح بخاری: 971
📖 صحیح مسلم: 888، 891
📖 سنن ابوداؤد: 1138
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/971/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/888/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/891/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1138/
➖➖➖➖➖➖➖
📌 وضاحت:
یہ تکبیرات صرف فرض نمازوں کے بعد ہی نہیں، بلکہ تمام عشرہ میں پڑھتے رہنا ہے:
1 ذوالحجہ نمازِ فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ بعد از نمازِ عصر تک
➖➖➖➖➖➖➖
📘 اعمالِ صالحہ
وہ اعمال جن کے بارے میں عام طور پر لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں، مثلاً:
➊ قرآن کی تلاوت
➋ بہت زیادہ صدقہ کرنا
➌ مساکین پر خرچ کرنا
➍ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، وغیرہ۔
➤ مندرجہ بالا اعمال پر ہمیشگی اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
5 📘 قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ؟ [حصہ اول]
قربانی کا حکم
قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ آئندہ سطور میں ہم ہر گروہ کے دلائل اور راجح مسئلہ کی نشاندہی کریں گے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➊ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے
جمہور علماء کا موقف ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے۔ قربانی کے سنتِ مؤکدہ ہونے کے دلائل حسبِ ذیل احادیث و آثار ہیں:
━━━━━━━━━━━━━━
دلیل نمبر ➊
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي، ثم نرجع فننحر، من فعله فقد أصاب سنتنا، ومن ذبح قبل فإنما هو لحم قدمه لأهله، ليس من النسك فى شيء
”بلاشبہ ہم اپنے اس عید الاضحیٰ کے دن میں سب سے پہلے جس عمل سے آغاز کریں گے، وہ نماز پڑھنا ہے، پھر ہم واپس پلٹیں گے اور قربانی ذبح کریں گے۔ جس نے یہ عمل کیا، بالتحقیق اس نے ہماری سنت اختیار کی، اور جس نے نمازِ عید سے قبل ذبح کیا، یہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہلِ خانہ کو جلد پیش کیا ہے، اس کی کوئی قربانی نہیں ہے۔“
📖 صحیح بخاری، کتاب الاضاحی، باب سنۃ الاضحیۃ: 5545
📖 صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب وقتھا: 1961
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5545/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1961/
━━━━━━━━━━━━━━
دلیل نمبر ➋
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من ذبح قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه، وأصاب سنة المسلمين
”جس نے نماز سے قبل قربانی ذبح کی، اس نے محض اپنی خاطر ذبح کیا، اور جس نے نمازِ عید کے بعد جانور ذبح کیا تو یقیناً اس کی قربانی پوری ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت پالی۔“
📖 صحیح بخاری، کتاب الاضاحی، باب سنۃ الاضحیۃ: 5546
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5546/
ان احادیث میں ”فقد أصاب سنتنا“ اور ”أصاب سنة المسلمين“ کے الفاظ دلیل ہیں کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، واجب نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
دلیل نمبر ➌
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم هلال ذي الحجة، وأراد أحدكم أن يضحي، فليمسك عن شعره وأظفاره
”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخنوں کو کاٹنے سے باز رہے۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب نھی من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ وھو یرید التضحيۃ أن یأخذ من شعرہ وأظفارہ شیئًا: 1977
📖 سنن بیہقی: 9/266
📖 صحیح ابن حبان: 5916
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1977/
━━━━━━━━━━━━━━
فوائد
➊ سید سابق رحمہ اللہ:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ: أراد أن يضحي یعنی جس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، دلیل ہیں کہ قربانی سنت ہے، واجب نہیں۔“
📖 فقہ السنۃ: 2/33
➋ شوکانی رحمہ اللہ:
”قربانی کو ارادہ سے معلق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب نہیں۔“
📖 نیل الاوطار: 5/118
➌ ابن قدامہ رحمہ اللہ:
”قربانی کے حکم کو ارادہ سے متعلق کیا گیا ہے، جب کہ واجب کو ارادہ سے معلق نہیں کیا جاتا، لہٰذا قربانی سنت ہے۔“
📖 المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیر: 11/95
━━━━━━━━━━━━━━
دلیل نمبر ➍
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر، ووضع رجله على صفاحهما
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سفید و سیاہ رنگ کے انتہائی جاذبِ نظر دو مینڈھے قربانی کے لیے ذبح کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، اور ذبح کرتے وقت بسم الله والله أكبر کہا، اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔“
📖 صحیح بخاری، کتاب الاضاحی، باب التکبیر عند الذبح: 5565
📖 صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب استحباب استحسان الضحیۃ: 1966
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5565/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1966/
یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی سنت ہے، واجب نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے زیادہ سے زیادہ اس عمل کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی فعل سنتِ مؤکدہ ہوتا ہے۔
📖 فقہ السنۃ: 2/33
━━━━━━━━━━━━━━
➋ سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا عمل
ابو سریحہ غفاری رحمہ اللہ بن حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں:
أدركت أبا بكر أو رأيت أبا بكر وعمر رضي الله عنهما كان لايضحيان كراهية أن يقتدى بھما
”میں نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اس بات کی ناگواری کی وجہ سے قربانی نہیں کرتے تھے کہ اس مسئلہ میں ان کی اقتدا نہ کی جائے۔“
📖 صحیح: سنن بیہقی: 9/265
📖 ارواء الغلیل: 1139
فائدہ:
سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا قربانی نہ کرنا قربانی کے مسنون ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اگر قربانی فرض ہوتی تو شیخین کبھی بھی اس عمل کو ترک نہ کرتے، اور نہ لوگوں میں اس کے عدمِ وجوب کا تاثر پیدا کرتے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➌ ایک ضعیف اثر کا بیان
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول اثر جو قربانی کے عدمِ وجوب پر دلالت کرتا ہے، ضعیف ہے۔
ابو وائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:
إنى لأدع الأضحى و إنى لموسر، مخافة أن يرى جيراني أنه حتم على
”میں آسودہ حال ہونے کے باوجود اس ڈر سے قربانی چھوڑ دیتا ہوں کہ میرے ہمسائے یہ خیال نہ کریں کہ قربانی مجھ پر فرض ہے۔“
📖 ضعیف: سنن بیہقی: 9/265
📖 مصنف عبدالرزاق: 8149
اس سند میں سفیان ثوری اور سلیمان بن مہران اعمش کی تدلیس ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
جاری ہے۔۔۔
6 📘 قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ؟ [حصہ دوم]
➊ علماء کے اقوال و آراء
① ابو عیسیٰ امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
والعمل على هذا عند أهل العلم أن الأضحية ليست بواجبة، ولكنها سنة من سنن النبى صلى الله عليه وسلم يستحب أن يعمل بها، وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك
”علماء اس موقف پر عمل پیرا ہیں کہ قربانی کرنا واجب نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، جس پر عمل کرنا مستحب ہے۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔“
📖 جامع ترمذی، تحت حدیث: 1506
━━━━━━━━━━━━━━
② امام بخاری رحمہ اللہ کا اشارہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاری میں باب قائم کیا ہے:
باب سنة الأضحية
”قربانی کے مسنون ہونے کا باب۔“
یہ باب باندھ کر امام بخاری رحمہ اللہ نے قربانی کے مسنون ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب قائم کر کے قربانی کے وجوب کے قائلین کی مخالفت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
③ ابن حزم رحمہ اللہ کا قول
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”کسی بھی صحابی سے بسند صحیح قربانی کا وجوب ثابت نہیں، جب کہ جمہور علماء سے قربانی کا غیر واجب ہونا ثابت ہے۔ البتہ قربانی شرائعِ دین میں سے ہے، اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف نہیں ہے، اور شافعیہ اور جمہور علماء کے نزدیک قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، اور ایک توجیہہ ہے کہ شافعیہ اسے فرضِ کفایہ تسلیم کرتے ہیں۔“
━━━━━━━━━━━━━━
④ ابو حنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کا موقف
ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ مالدار مقیم پر قربانی واجب ہے۔
مالک رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں، لیکن انہوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی۔
اوزاعی، ربیعہ اور لیث سے بھی یہی قول منقول ہے۔
پھر احناف میں سے ابو یوسف نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی، اور اشہب مالکی نے امام مالک رحمہ اللہ کی مخالفت اور جمہور علماء کے موقف کی موافقت کی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
⑤ امام احمد رحمہ اللہ کا قول
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”استطاعت اور آسودہ حالی کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔“
اور ان سے قربانی کے وجوب کا قول بھی منقول ہے۔
محمد بن حسن شیبانی بیان کرتے ہیں:
”قربانی ایسی سنت ہے جسے ترک کرنے کی رخصت نہیں۔“
━━━━━━━━━━━━━━
⑥ امام طحاوی رحمہ اللہ کا قول
طحاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”ہم اسی، یعنی قولِ محمد بن حسن شیبانی، کو مذہب بناتے ہیں، اور قربانی کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے۔“
📖 فتح الباری: 10/6
━━━━━━━━━━━━━━
⑦ امام نووی رحمہ اللہ کا قول
امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
”علماء کا مالدار شخص پر قربانی کے وجوب کے متعلق اختلاف ہے، اور جمہور علماء کہتے ہیں کہ صاحبِ حیثیت شخص کے لیے قربانی کرنا مسنون ہے، اور اگر ایسا شخص بغیر کسی عذر کے قربانی نہ کرے تو نہ یہ گناہ گار ہوگا اور نہ اس پر قضا لازم ہوگی۔
سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا بلال، ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہم، اور سعید بن مسیب، عطاء، مالک، احمد، ابو یوسف، اسحاق، ابو ثور اور ابن منذر رحمہم اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔“
📖 شرح النووی: 13/109
📖 المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیر: 11/95
━━━━━━━━━━━━━━
⑧ شوکانی رحمہ اللہ کا قول
شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”جمہور علماء کا مذہب ہے کہ قربانی سنت ہے، واجب نہیں۔“
📖 نیل الاوطار: 5/117
━━━━━━━━━━━━━━
⑨ سید سابق رحمہ اللہ کا قول
سید سابق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ فعل ہے۔“
📖 فقہ السنۃ: 2/33
━━━━━━━━━━━━━━
➋ سعودی فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ
”صاحبِ استطاعت کے حق میں قربانی کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ اس کی دلیل سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سفید اور سیاہ رنگ کے دو مینڈھے قربانی کیے۔“
📖 صحیح بخاری: 5565
📖 صحیح مسلم: 1966
📖 فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ: 9/413
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5565/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1966/
━━━━━━━━━━━━━━
➌ راجح موقف
اوپر بیان کردہ احادیث و آثار، جمہور علماء کی رائے اور محدثین کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، واجب نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو صحیح دلائل کی روشنی میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
7 📘 قربانی کرنے والے کے لیے اہم شرائط
━━━━━━━━━━━━━━
➊ عقیدہ اور عمل کی درستگی
قربانی کرنے والے کا صحیح العقیدہ مسلمان، متبعِ کتاب و سنت ہونا، اور شرک، کفر و بدعات سے پاک ہونا ضروری ہے۔
جس کا عقیدہ خراب ہو، اس کا کوئی عمل قابلِ قبول نہیں ہے۔
قرآن، حدیث اور اجماع کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر وقت اپنے ایمان و عمل کا خاص خیال رکھیں۔
📖 قربانی کے احکام ازشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
━━━━━━━━━━━━━━
➋ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بال اور ناخن نہ کاٹنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو اسے اپنے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہیے۔“
📖 صحیح مسلم: 1977
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1977/
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنے والے شخص کو یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال نہیں کاٹنے چاہئیں اور ناخن نہیں تراشنے چاہئیں۔
اگر کسی کا ناخن ٹوٹ جائے یا ایسی خرابی ہو جائے کہ ناخن تراشنا ضروری ہو تو پھر ایسا کرنا جائز ہے، جیسا کہ اجماع سے ثابت ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➌ قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے کے لیے خوش خبری
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اگر مجھے صرف مادہ جانور یعنی دودھ دینے والا جانور قربانی کے لیے ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراش لو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں یہ تمہاری پوری قربانی ہے۔“
📖 سنن ابی داود: 2789، سندہ حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2789/
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ اگر یکم ذوالحجہ سے لے کر نمازِ عید تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے پوری قربانی کا ثواب ملتا ہے۔
سبحان اللہ!
━━━━━━━━━━━━━━
➤ قربانی کا مقصد
قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ مطہرہ پر خلوصِ نیت سے عمل کرنا ہے، اور ان شاء اللہ اس کا بہت بڑا ثواب ملے گا۔
━━━━━━━━━━━━━━
اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
8 📘 قربانی کے جانور کی شرائط
━━━━━━━━━━━━━━
➊ قربانی دوندے جانور کی ہونی چاہیے
قربانی صرف منڈھا، یعنی دوندے جانور کی ہی جائز ہے، اور اگر تنگی کی وجہ سے دوندا نہ مل سکے تو پھر بھیڑ یعنی دنبے کا جذعہ، یعنی ایک سال کے دنبے کی قربانی جائز ہے۔
📖 صحیح مسلم: 1963
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1963/
تنگی سے مراد صرف یہ ہے کہ مارکیٹ اور منڈی میں پوری کوشش اور تلاش کے باوجود دوندا جانور نہ مل سکے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➋ چار عیب دار جانوروں کی قربانی جائز نہیں
حدیث سے ثابت ہے کہ چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:
① واضح طور پر کانا جانور
② واضح طور پر بیمار جانور
③ واضح طور پر لنگڑا جانور
④ بہت زیادہ کمزور جانور، جو ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو
📖 سنن ابی داود: 2802، وسندہ صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2802/
اس حدیث کی صحت پر کیئے جانے والے اعتراضات کا جواب یہاں ملاحظہ کریں: https://tohed.com/6c605e
━━━━━━━━━━━━━━
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا:
”قربانی کے جانور میں آنکھ اور کان دیکھیں۔“
📖 سنن ترمذی: 1503، وقال: حسن صحیح
🔗https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1503/
اس پر اجماع ہے کہ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➍خصی جانور کی قربانی جائز ہے
❀ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
وأجمع الجمهور على أن لا بأس أن يضحى بالخصي إذا كان سمينا
”اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ خصی جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ موٹا تازہ ہو۔“
📖 الاستذکار: 5/218
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
📚 قربانی کے احکام از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
9 📘 قربانی سے متعلق متفرق مسائل
━━━━━━━━━━━━━━
➊ قربانی کی کھالیں
قربانی کی کھالیں مسکین لوگوں میں تقسیم کر دیں، جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔
📖 صحیح مسلم: 1317
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1317/
ذبح کرنے والے یا قصاب کو اجرت میں قربانی کی کھالیں دینا جائز نہیں ہے، اور اسی طرح اجرت میں قربانی کا گوشت دینا بھی جائز نہیں، بلکہ حرام ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➋ گوشت کی تقسیم
قربانی کا سارا گوشت خود کھانا یا ذخیرہ کر لینا جائز ہے۔
اور اس کے تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے لیے، ایک غریب مسکین لوگوں کے لیے، اور ایک رشتہ داروں دوستوں کے لیے مخصوص کرنا بھی جائز ہے، بلکہ یہ بہتر ہے۔
📖 نیز دیکھیے: سورۃ الحج: 28، 36
━━━━━━━━━━━━━━
➌ قربانی کے حصے اور شراکت
بکری اور دنبے، بھیڑ کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے۔
لیکن گائے، بیل اور اونٹ، اونٹنی میں سات حصے صحیح حدیث سے ثابت ہیں، اور ایک حسن روایت سے اونٹ، اونٹنی میں دس حصوں کا بھی ثبوت ہے۔
📖 صحیح مسلم: 1318
📖 سنن ترمذی: 1501، وقال: حسن غریب
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1318/
تنبیہ:
صرف صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر سات یا دس حصوں میں شراکت ہو سکتی ہے۔
اہلِ بدعت، گمراہ اور ضال مضل لوگوں کے ساتھ مل کر کبھی قربانی نہیں کرنی چاہیے، اور نہ ایسے گمراہوں کے کسی عمل کا کوئی وزن ہے، بلکہ ایسے لوگوں کے تمام اعمال ھَبَاءً مَنْثُورًا کر کے ہوا میں اڑا دیے جائیں گے، ان شاء اللہ۔
━━━━━━━━━━━━━━
➤ قربانی کے متفرق مسائل
━━━━━━━━━━━━━━
➊ جانور کو ذبح کرتے وقت تسمیہ و تکبیر:
بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ
کہنا سنت سے ثابت ہے۔
📖 صحیح مسلم: 1966
📖 صحیح بخاری: 5564
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1966/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5564/
صرف بسم الله پڑھنا بھی ثابت ہے۔
📖 صحیح مسلم: 1967
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1967/
━━━━━━━━━━━━━━
➋ پورے گھر کی طرف سے ایک قربانی بھی کافی ہے، اور گھر کے دوسرے افراد بھی قربانیاں کر سکتے ہیں۔
📖 سنن ترمذی: 1505، وقال: حسن صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1505/
━━━━━━━━━━━━━━
➌ میت کی طرف سے قربانی
میت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت نہیں، اور اس بارے میں جو روایت آئی ہے، اس کی سند شریک قاضی و حکم بن عتیبہ مدلسین کی عنعنہ اور ابوالحسناء کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
لیکن میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی میت کی طرف سے قربانی کرے تو اس کا سارا گوشت اور کھال وغیرہ صدقہ کر دے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➍ قربانی کا جانور پہلے سے خرید کر اسے کھلا پلا کر موٹا کرنا جائز ہے۔
📖 دیکھیے: تغلیق التعلیق: 5/6، وسندہ صحیح
━━━━━━━━━━━━━━
➎ عید گاہ میں قربانی کرنا جائز ہے، اور عیدگاہ کے باہر مثلاً اپنے گھر میں یا گھر سے باہر وغیرہ میں قربانی کرنا بھی جائز ہے۔
📖 صحیح بخاری: 5551، 5552
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5551/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5552/
━━━━━━━━━━━━━━
➏ قربانی کا جانور خود ذبح کرنا سنت ہے، اور دوسرے سے ذبح کروانا بھی جائز ہے۔
📖 دیکھیے: موطا امام مالک، روایت ابن القاسم حقیقی: 145
━━━━━━━━━━━━━━
➐ اگر مسنون یا نفلی قربانی کا جانور گم ہو جائے تو جانور کے مالک کی مرضی ہے کہ دوسرا جانور لے کر قربانی کرے یا قربانی نہ کرے۔
📖 دیکھیے: السنن الکبریٰ: 9/389، وسندہ صحیح
━━━━━━━━━━━━━━
➑ خریدنے کے بعد جانور میں عیب پیدا ہو جائے
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قربانی کے جانوروں میں ایک کانی اونٹنی دیکھی تو فرمایا:
”اگر یہ خریدنے کے بعد کانی ہوئی ہے تو اس کی قربانی کر لو، اور اگر خریدنے سے پہلے یہ کانی تھی تو اسے بدل کر دوسری اونٹنی کی قربانی کرو۔“
📖 السنن الکبریٰ للبیہقی: 9/389، وسندہ صحیح
ثابت ہوا کہ اگر قربانی کا جانور خرید لیا جائے اور اس کے بعد اس میں کوئی نقص واقع ہو جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➒ اگر قربانی کا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص ناخن یا بال کٹوا دے اور پھر قربانی کرے تو اس کی قربانی ہو جائے گی، لیکن یہ شخص گناہ گار ہوگا۔
📖 الشرح المعانی: 3/430
━━━━━━━━━━━━━━
➓ اگر کسی دوسرے کی طرف سے قربانی کی جائے تو ذبح کرتے وقت اس آدمی کا نام لیتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ یہ قربانی اس کی طرف سے ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
⓫ خصی جانور کی قربانی جائز ہے، اور اس کے ناجائز ہونے کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
⓬ اگر کسی آدمی کو اللہ نے مال و دولت عطا کیا ہوا ہے تو وہ کئی قربانیاں کر سکتا ہے، اور ظاہر ہے کہ اس کے اس عمل سے غرباء و مساکین اور عام مسلمانوں کا فائدہ ہوگا۔
━━━━━━━━━━━━━━
⓭ گائے کا گوشت کھانا بالکل حلال ہے، اور کسی قسم کی کسی بیماری کا کوئی خطرہ نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی شخص بذات خود ہی بیمار ہو۔
جس روایت میں آیا ہے کہ گائے کے گوشت میں بیماری ہے، وہ روایت ضعیف ہے، اور اسے صحیح قرار دینا غلط ہے۔ مزید تفصیل یہاں: https://tohed.com/938426
━━━━━━━━━━━━━━
⓮ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔
📖 صحیح مسلم: 360
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/360/
اور دوسرا گوشت مثلاً گائے، بکری اور بھیڑ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
━━━━━━━━━━━━━━
⓯ قربانی کا اصل مقصد یہ ہے کہ تقویٰ حاصل ہو، لہٰذا ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
📖 دیکھیے: سورۃ الحج: 37
━━━━━━━━━━━━━━
⓰ قربانی کے جانور، مثلاً گائے، میں عقیقے کے حصے شامل کر دینا جائز نہیں۔
📚 مقالات از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ: 5/199
10 📘 حلال جانور کے سات اجزاء کو حرام کہنے کا تحقیقی جائزہ
ذبح کے وقت بہنے والا خون بالاتفاق حرام ہے۔ اس کے علاوہ حلال جانور کے تمام اعضاء و اجزاء حلال ہیں، لیکن حنفیوں، دیوبندیوں اور بریلویوں کے نزدیک حلال جانور میں سات اجزاء حرام ہیں۔
◈ ابنِ عابدین حنفی لکھتے ہیں:
المكروه تحريما من الشاة سبع: الفرج، والخصية، والغدة، والدم المسفوح، والمرارة، والمثانة، والمذاكير۔
”شاة یعنی بکری، بکرا، بھیڑ اور دنبہ میں یہ سات چیزیں مکروہِ تحریمی ہیں: فرج یعنی پیشاب کی جگہ، کپورے، غدود، ذبح کے وقت بہنے والا خون، پتہ، مثانہ اور نر کا آلۂ تناسل۔“
📖 العقود الدرية لابن عابدين: 56
◈ جناب رشید احمد گنگوہی دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
”سات چیزیں حلال جانور کی کھانی منع ہیں: ذکر، فرجِ مادہ، مثانہ، غدود، حرام مغز جو پشت کے مہرہ میں ہوتا ہے، خصیہ، پتہ یعنی مرارہ جو کلیجہ میں تلخ پانی کا ظرف ہے۔“
📖 تذكرة الرشيد: 174/1
◈ جناب احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
”حلال جانور کے بعض اعضاء حرام ہیں، جیسے خون، پتہ، فرج، خصیہ وغیرہ۔“
📖 تفسير نور العرفان از نعيمي: ص 547
◈ یہی بات احمد رضا خان بریلوی صاحب نے بھی کہی ہے۔
📖 فتاویٰ رضویہ: 234/20
اب ان کے دلائل کا مختصر تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:
━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلیل نمبر: ➊
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا: المرارة، المثانة، والحياء، والذكر، والأنثيين، والغدة، والدم۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری وغیرہ میں ان سات اجزاء کو مکروہ خیال کرتے تھے:
① پتہ
② مثانہ
③ پچھلی شرمگاہ
④ اگلی شرمگاہ
⑤ کپورے
⑥ غدود
⑦ خون یعنی وقتِ ذبح بہنے والا خون“
📖 المعجم الأوسط للطبراني: 9480
🔍 تبصرہ:
اس کی سند موضوع یعنی من گھڑت ہے، کیونکہ:
➊ امام طبرانی کے استاذ یعقوب بن اسحاق کا تعین اور توثیق درکار ہے۔
➋ اس کا مرکزی راوی یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
◈ حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضعفه الجمهور۔
”اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔“
📖 البدر المنير لابن الملقن: 3/227
➌ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم بھی جمہور کے نزدیک ضعیف اور متروک راوی ہے۔
اس کے بارے میں:
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والأكثر على تضعيفه۔
”اکثر محدثین اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔“
📖 مجمع الزوائد للهيثمي: 20/2
━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلیل نمبر: ➋
مجاہد بن جبر تابعی کہتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا: الدم، الحياء، والأنثيين، والغدة، والذكر، والمثانة، والمرارة۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری وغیرہ سے ان سات اعضاء کو ناپسند کرتے تھے:
① خون یعنی بوقتِ ذبح بہنے والا
② شرمگاہ
③ خصیتین
④ غدود
⑤ اگلی شرمگاہ
⑥ مثانہ
⑦ پتہ“
📖 مصنف عبدالرزاق: 55/4، ح: 8771
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 7/10
🔍 تبصرہ:
یہ روایت کئی علتوں کی وجہ سے ضعیف اور باطل ہے:
➊ یہ مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ مجاہد تابعی رحمہ اللہ ڈائریکٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہیں۔
➋ اس کا راوی واصل بن ابی جمیل ضعیف ہے۔
اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا شيء۔
”یہ حدیث میں کچھ بھی نہیں۔“
📖 الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 30/9، وسنده صحيح
➌ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضعيف۔
📖 سنن الدارقطني: 76/3
نیز اسے امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے الضعفاء: 666 میں اور حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بھی ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ کی الثقات: 7/559 کے علاوہ کسی نے اسے ثقہ نہیں کہا، لہٰذا یہ ضعیف ہے۔
◈ حافظ ابن القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
واصل لم تثبت عدالته۔
”واصل کی عدالت ثابت نہیں۔“
📖 التقدير للطحاوي: 200/2
◈ مجاہد اس روایت کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے موصول بھی بیان کرتے ہیں۔
📖 الكامل لابن عدي: 12/5
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 7/60
لیکن یہ روایت بھی موضوع یعنی من گھڑت ہے، کیونکہ اس کا راوی عِبْر بن موسیٰ الوجیہی بالاتفاق ائمہ محدثین کے نزدیک ضعیف، منکر الحدیث اور متروک الحدیث ہے۔
◈ امام بیہقی رحمہ اللہ اس راوی کو ضعیف قرار دے کر لکھتے ہیں:
ولا يصح وصله۔
”اس حدیث کا موصول ہونا درست نہیں۔“
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 70
بعض لوگوں کی یہ کل کائنات تھی، جس کا حشر قارئین کرام نے دیکھ لیا ہے۔
↰ ثابت ہوا کہ حلال جانور میں سوائے دمِ مسفوح یعنی وقتِ ذبح بہتے ہوئے خون کے کوئی چیز حرام نہیں ہے۔ سات اجزاء کو حرام کہنے والوں کا قول باطل و عاطل اور فاسد و کاسد ہے، کیونکہ ان کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 فائدہ: اوجھڑی اور گردے کا حکم
جہاں تک اوجھڑی کا تعلق ہے، اس کا کھانا بھی جائز ہے، لیکن حنفیوں اور بریلویوں کے نزدیک یہ بھی مکروہ ہے:
➊ جناب عبدالحئی لکھنوی حنفی کہتے ہیں:
”اوجھڑی کا کھانا مکروہ ہے۔“
📖 مجموع الفتاویٰ لعبد الحی: 397/7، 29/7
➋ جناب احمد رضا خان بریلوی کہتے ہیں:
”اوجھڑی کا کھانا مکروہ ہے۔“
📖 ملفوظات: جزء ص 35
↰ بعض لوگوں نے حلال جانور میں 22 چیزیں مکروہ یا حرام قرار دے دی ہیں۔
گردے کے بارے میں جناب رشید احمد گنگوہی دیوبندی کہتے ہیں:
”بعض حنفی فقہ کی روایات میں گردہ کی کراہت لکھتے ہیں اور کراہتِ تنزیہ پر عمل کرتے ہیں۔“
📖 تذكرة الرشيد: جزء 1، ص 147
↰ ہم کہتے ہیں کہ اوجھڑی اور گردے کے مکروہ ہونے پر کیا دلیل ہے؟
◈ جناب احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:
”ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ المتوفی 180ھ نے فرمایا: خون تو بحکمِ قرآن حرام ہے اور باقی چیزیں میں مکروہ سمجھتا ہوں۔“
📖 فتاویٰ رضویہ: جزء 20، ص 234
یہ اُڑتی اُڑتی ہوا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ قول باسندِ صحیح ثابت کریں، ورنہ مانیں کہ یہ امام صاحب پر صریح جھوٹ ہے۔ دلائل سے تہی دست لوگوں سے ایسی باتوں کا صادر ہونا بعید از عقل نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
✅ الحاصل:
حلال جانور میں ذبح کے وقت بہنے والے خون کے علاوہ اس کا کوئی بھی عضو حرام یا مکروہ نہیں۔
11 📘 اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلیل نمبر: ➊
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
عن جابر بن سمرة: أن رجلاً سأل رسول الله ﷺ: أأتوضأ من لحوم الغنم؟ قال: إن شئت فتوضأ، وإن شئت فلا توضأ. قال: أأتوضأ من لحوم الإبل؟ قال: نعم، فتوضأ من لحوم الإبل. قال: أصلي في مرابض الغنم؟ قال: نعم. قال: أصلي في مبارك الإبل؟ قال: لا.
”ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کیا میں بکری کے گوشت کو کھانے سے وضو کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو وضو کر لو، اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو۔
اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹ کے گوشت کو کھانے سے وضو کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اونٹ کے گوشت کو کھانے سے وضو کرو۔
اس نے عرض کیا: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔
اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔“
📖 صحیح مسلم: 360
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/360/
━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلیل نمبر: ➋
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
عن البراء بن عازب قال: سئل رسول الله ﷺ عن الوضوء من لحوم الإبل، فقال: توضؤوا منها، وسئل عن الوضوء من لحوم الغنم، فقال: لا توضؤوا منها.
”رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے گوشت کو کھانے سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے وضو کرو۔
پھر آپ ﷺ سے بکریوں کے گوشت کو کھانے سے وضو کے بارے میں سوال ہوا، تو فرمایا: اس سے وضو نہ کرو۔“
📖 سنن ترمذی: 81
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/81/
📖 سنن ابی داود: 184
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/184/
📖 سنن ابن ماجہ: 484
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/484/
وسندہ صحیح
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ، امام ابن حبان، امام ابن الجارود، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔
مسند ابی داود الطیالسی اور سنن کبریٰ بیہقی میں اعمش نے سماع کی تصریح کی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلیل نمبر: ➌
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
عن جابر بن سمرة قال: كنا نتوضأ من لحوم الإبل ولا نتوضأ من لحوم الغنم.
”ہم صحابہ کرام اونٹ کے گوشت کو کھانے سے وضو کرتے تھے، لیکن بکریوں کے گوشت سے وضو نہیں کرتے تھے۔“
📖 مصنف ابن ابی شیبہ: 46/1، ح: 517
وسندہ صحیح
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں مذکورہ مرفوع حدیث بھی بیان کی ہے، اور مسلم قاعدہ ہے کہ راویٔ حدیث اپنی روایت کو دوسروں سے بہتر جانتا ہے۔
راویٔ حدیث صحابہ کرام کا عمل بیان کر رہے ہیں، گویا کہ اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
✅ خلاصہ:
احادیثِ صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
12 📘 ائمہ محدثین اور فقہائے کرام کی آراء
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جانے کے بارے میں ائمہ محدثین اور فقہائے کرام کی آراء درج ذیل ہیں:
━━━━━━━━━━━━━━
➊ امام ترمذی رحمہ اللہ
(200ھ - 279ھ)
امام ترمذی رحمہ اللہ یوں باب قائم کرتے ہیں:
باب ما جاء في الوضوء من لحوم الإبل
”اونٹ کے گوشت کو کھانے سے وضو کے بارے میں روایات کا بیان۔“
نیز لکھتے ہیں:
وهو قول أحمد وإسحاق، وقد روي عن بعض أهل العلم من التابعين وغيرهم: أنهم لم يروا الوضوء من لحوم الإبل، وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة.
”امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ کا یہی مذہب ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ بعض اہلِ علم تابعین وغیرہم سے مروی ہے کہ وہ اونٹ کے گوشت کو کھانے سے وضو کے واجب ہونے کا خیال نہیں کرتے تھے۔ یہ سفیان ثوری اور اہلِ کوفہ کا مذہب ہے۔“
📖 جامع ترمذی، تحت حدیث: 81
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/81/
━━━━━━━━━━━━━━
➋ امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ
امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ کا یہی مذہب ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
📖 جامع ترمذی، تحت حدیث: 81
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/81/
━━━━━━━━━━━━━━
➌ امام ابوداود رحمہ اللہ
(202ھ - 275ھ)
امام ابوداود رحمہ اللہ کی تبویب یوں ہے:
باب الوضوء من لحوم الإبل
”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان۔“
📖 سنن ابی داود: 184
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/184/
━━━━━━━━━━━━━━
➍ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ
(209ھ - 273ھ)
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
باب ما جاء في الوضوء من لحوم الإبل
”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کی روایات کا بیان۔“
📖 سنن ابن ماجہ: 494
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/494/
━━━━━━━━━━━━━━
➎ امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ
(223ھ - 311ھ)
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ یوں تبویب فرماتے ہیں:
باب الأمر بالوضوء من أكل لحوم الإبل
”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کے حکم کا بیان۔“
📖 صحیح ابن خزیمہ: 21/1، ح: 31
━━━━━━━━━━━━━━
➏ امام ابن حبان رحمہ اللہ
(م 304ھ)
امام ابن حبان رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ذكر الأمر بالوضوء من أكل لحم الجزور ضد قول من نفى عنه ذلك
”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کے حکم کا بیان، بخلاف اس شخص کے جو اس کی نفی کرتا ہے۔“
📖 صحیح ابن حبان: 431/3، ح: 1154
━━━━━━━━━━━━━━
➐ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ
(م 456ھ)
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وأكل لحوم الإبل نيئة ومطبوخة أو مشوية، وهو يدري أنه لحم جمل أو ناقة، فإنه ينقض الوضوء.
”اونٹ کا گوشت کھانا، خواہ کچا ہو یا پکا ہوا یا بھنا ہوا ہو، وضو توڑ دیتا ہے، بشرطیکہ کھانے والا جانتا ہو کہ یہ اونٹ یا اونٹنی کا گوشت ہے۔“
📖 المحلى لابن حزم: 241/1
━━━━━━━━━━━━━━
➑ امام بیہقی رحمہ اللہ
(م 458ھ)
امام بیہقی رحمہ اللہ کی تبویب حسبِ ذیل ہے:
باب التوضي من لحوم الإبل
”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔“
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 159/1
نیز مخالفین کے بودے دلائل کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
وبمثل هذا لا يترك ما ثبت عن رسول الله ﷺ.
”اس جیسے غیر معتبر دلائل کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ سے ثابت شدہ حدیث کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔“
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 158/1، 159
━━━━━━━━━━━━━━
➒ امام ابن المنذر رحمہ اللہ
(م 318ھ)
امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والوضوء من لحوم الإبل يجب، لثبوت هذين الحديثين وجودة إسنادهما.
”ان دونوں حدیثوں کے ثبوت اور ان کی سند کی عمدگی کی بنا پر اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو واجب ہو جاتا ہے۔“
📖 الأوسط لابن المنذر: 138/1
━━━━━━━━━━━━━━
➓ حافظ نووی رحمہ اللہ
حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وهذا المذهب أقوى دليلاً.
”یہ مذہب کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دلیل کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔“
📖 شرح مسلم از نووی: 185/1
━━━━━━━━━━━━━━
✅ تلک عشرة کاملۃ
”یہ پوری دس گواہیاں ہیں۔“
13 📘 اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو — احناف کے دلائل کا مختصر جائزہ
قارئینِ کرام!
رسول اکرم ﷺ کے واضح فرامین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل، اور ائمہ محدثین کی آراء سے ثابت ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
اس کے برعکس احناف اس کے قائل نہیں، مگر ان کے پاس کوئی صحیح صریح دلیل موجود نہیں، بلکہ چند تاویلات ہیں جن کا مختصر جائزہ پیش ہے:
━━━━━━━━━━━━━━
📌 جمہور کی دلیل
جناب محمد سرفراز خان صفدر دیوبندی حیاتی لکھتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ کے مطابق جمہور علماء اور خلفائے اربعہ کا مسلک یہ ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
📖 خزائن السنن: 167/1
🔍 تبصرہ:
اولاً: جمہور کے خلاف صحیح حدیث موجود ہو تو جمہور کی بات نہیں مانی جا سکتی، کیونکہ دین رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا نام ہے، جمہور کی آراء کا نہیں۔
ثانیاً: خلفائے اربعہ تو کجا، کسی ایک خلیفہ راشد سے بھی باسندِ صحیح یہ ثابت نہیں کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وأما من نقل عن الخلفاء الراشدين أو جمهور الصحابة أنهم لم يكونوا يتوضؤون من لحوم الإبل، فقد غلط عليهم.
”جس نے خلفائے راشدین یا جمہور صحابہ سے اونٹ کے گوشت سے وضو نہ کرنا نقل کیا، اس نے ان کی طرف غلط بات منسوب کی۔“
📖 القواعد النورانية: 9
━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلیل احناف
احناف کہتے ہیں کہ ترک الوضوء مما مست النار والی حدیث، اونٹ کے گوشت سے وضو والی حدیث کی ناسخ ہے۔
🔍 تبصرہ:
یہ دلیل درست نہیں، کیونکہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو نہ کرنے والی روایت عام ہے، جبکہ اونٹ کے گوشت سے وضو والی حدیث خاص ہے، اور عام دلیل سے خاص دلیل منسوخ نہیں ہوتی۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ذكر البيان بأن الأمر بالوضوء مما مست النار منسوخ، خلا لحم الإبل وحدها.
”آگ سے پکی ہوئی چیزوں سے وضو کا حکم منسوخ ہے، سوائے اونٹ کے گوشت کے۔“
📖 صحیح ابن حبان: 431/3
━━━━━━━━━━━━━━
📌 تاویل نمبر: ➊ — وضو واجب نہیں، مستحب ہے
احناف کہتے ہیں کہ اونٹ کے گوشت سے وضو کا حکم وجوب کے لیے نہیں، بلکہ استحباب کے لیے ہے۔
🔍 تبصرہ:
یہ تاویل درست نہیں، کیونکہ:
➊ اونٹ کے گوشت سے وضو کے عدمِ وجوب پر کوئی معتبر دلیل موجود نہیں۔
➋ محدثین کرام نے اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کو واجب قرار دیا ہے۔
➌ امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابن خزیمہ، امام ابن حبان، حافظ ابن حزم رحمہم اللہ وغیرہم کے اقوال اسی پر شاہد ہیں۔
➍ جس روایت سے استحباب ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے، کیونکہ اس کا راوی سلیمان بن داود الشاذکونی جمہور کے نزدیک کذاب اور متروک ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 تاویل نمبر: ➋ — وضو سے مراد ہاتھ دھونا ہے
احناف کہتے ہیں کہ حدیث میں وضو سے مراد شرعی وضو نہیں، بلکہ لغوی وضو یعنی ہاتھ اور منہ دھونا ہے۔
🔍 تبصرہ:
یہ تاویل بھی باطل ہے، کیونکہ شریعت میں جب رسول اللہ ﷺ کی زبان سے لفظِ وضو مطلقاً آئے تو اس سے مراد نماز والا شرعی وضو ہوتا ہے۔
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فإنه لا يطلق الوضوء في الشريعة إلا لوضوء الصلاة فقط.
”شریعت میں لفظِ وضو صرف نماز کے وضو کے لیے بولا گیا ہے۔“
📖 المحلى لابن حزم: 242/1
امام ابن حبان رحمہ اللہ حدیثِ براء پر باب قائم کرتے ہیں:
ذكر الخبر الدال على أن الأمر بالوضوء من أكل لحوم الإبل، إنما هو الوضوء المفروض للصلاة دون غسل اليدين.
”اونٹ کے گوشت سے جس وضو کا حکم دیا گیا ہے، وہ نماز کے لیے فرض کیا گیا وضو ہے، نہ کہ صرف دونوں ہاتھ دھونا۔“
📖 صحیح ابن حبان: 410/1
نیز اگر مراد صرف ہاتھ دھونا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ بکری اور اونٹ کے گوشت میں فرق نہ فرماتے، کیونکہ گوشت کھانے کے بعد ہاتھ دھونا دونوں صورتوں میں مستحب ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 کچھ آثار کا جائزہ
بعض آثار پیش کیے جاتے ہیں کہ سیدنا عمر، سیدنا علی یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم نے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو نہیں کیا۔
🔍 تبصرہ:
یہ آثار صحیح نہیں:
➊ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والا اثر ضعیف ہے، کیونکہ اس میں یحییٰ بن قیس الطائفی مجہول الحال ہے۔
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا اثر سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں جابر جعفی ضعیف رافضی، سفیان مدلس، اور ابو سبر نخعی مجہول الحال ہے۔
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ والا اثر بھی سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں جابر جعفی ضعیف رافضی، اور شریک القاضی مدلس ہیں۔
رہا سوید بن غفلہ یا ابراہیم نخعی رحمہما اللہ کا قول، تو یہ نہ قرآن ہے، نہ حدیث، نہ قولِ صحابی؛ اس لیے صحیح احادیث کے مقابلے میں قابلِ عمل نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
✅ خلاصہ
صحیح احادیث میں واضح حکم موجود ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کیا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل، ائمہ محدثین کی تبویب اور ان کے فتاویٰ بھی اسی کے مؤید ہیں۔
اس کے خلاف نہ کوئی صحیح حدیث ہے، نہ کسی خلیفہ راشد کا ثابت قول، نہ کوئی مضبوط دلیل۔
لہٰذا راجح اور مدلل موقف یہی ہے کہ:
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
14 📘 عید الاضحی کے 11 مسنون افعال صحیح احادیث کی روشنی میں
➊ عید الاضحیٰ کے دن کی فضیلت
❀ سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن یوم النحر (10 ذوالحجہ) ہے اور اس کے بعد یوم القر (11 ذوالحجہ) ہے۔“
📖 سنن ابوداؤد: 1765، مسند احمد: 4/350
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1765/
یہ حدیث حاکم، ابن خزیمہ، ابن حبان اور بیہقی نے بھی روایت کی ہے۔
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہلِ مدینہ کے ہاں دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کر لیا کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
”یہ دو دن کیا ہیں؟“
انہوں نے کہا:
ہم دورِ جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کر لیا کرتے تھے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دیے ہیں: اضحیٰ (قربانی) کا دن اور فطر کا دن۔“
📖 سنن ابوداؤد: 1134، سنن نسائی: 1557
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1134/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1557/
━━━━━━━━━━━━━━
➋ عید کے دن غسل، مسواک، خوشبو اور عمدہ لباس کا اہتمام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جمعہ کے دن ہر بالغ مسلمان پر غسل، مسواک اور خوشبو لگانا، اگر میسر ہو، ضروری ہے۔“
📖 صحیح بخاری: 887، 880
📖 صحیح مسلم: 252، 846، 847
📖 سنن ابوداؤد: 344
📖 سنن نسائی: 1376
📖 سنن ترمذی: 494
📖 سنن ابن ماجہ: 1084
📖 موطا امام مالک: 142
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/887/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/880/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/252/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/846/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/847/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/344/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1376/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1084/
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جمعہ کے دن ہر بالغ مسلمان پر نہانا واجب ہے۔“
📖 صحیح بخاری: 895
📖 صحیح مسلم: 844
📖 سنن ابوداؤد: 344
📖 سنن نسائی: 1378
📖 سنن ابن ماجہ: 1089
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/895/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/844/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/344/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1378/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1089/
❀ سیدنا نافع رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے۔
📖 موطا امام مالک: 422، مصنف عبدالرزاق: 5753، سنن بیہقی: 6125
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کیا کرتے تھے۔
📖 سنن ابن ماجہ: 1315
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1315/
❀ جمعہ، عیدین اور خاص مواقع پر عمدہ لباس کا اہتمام کرنا مسنون ہے۔
📖 صحیح بخاری: 886
📖 صحیح مسلم: 892، 538
📖 سنن ابوداؤد: 1076
📖 سنن نسائی: 1381
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/886/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/892/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/538/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1076/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1381/
❀ جمعہ کے دن عید ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آج کے دن دو عیدیں (دو خوشیاں) جمع ہو گئی ہیں، اور جو چاہے اس کے لیے یہ نماز عید (جمعہ کے لیے) کفایت کرے گی۔“
📖 سنن ابوداؤد: 1070، سنن ابن ماجہ: 1310
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1070/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1310/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ رب العزت اس بندے سے محبت کرتا ہے جو اس کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال بھی کرے، یعنی عمدہ لباس اور شرعی زینت سے بدن آراستہ ہو۔“
📖 سنن ترمذی: 2819
وضاحت:
جمعہ کے روز غسل، مسواک اور خوشبو کی تاکید ہے تو عیدین جو کہ مسلمانوں کے خوشی کے تہوار ہیں، ان پر بھی غسل کرنا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا اور عمدہ لباس زیب تن کرنا افضل ہے۔
لہٰذا اسراف سے بچتے ہوئے غسل کرنا، مسواک کرنا، پاک و صاف عمدہ لباس یا نیا لباس پہننا، مردوں کا خوشبو لگانا، اور عورتوں کو نمائشی بناؤ سنگھار سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے، بغیر خوشبو لگائے، بے پردگی اور بے ہودگی سے بچتے ہوئے عید گاہ میں نمازِ عید میں شامل ہونا چاہیے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➌ نمازِ عید الاضحیٰ سے پہلے کچھ نہ کھانا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرنے سے پہلے کچھ بھی تناول نہ فرماتے، بلکہ نماز کے بعد گھر واپس لوٹ کر اپنی قربانی میں سے کھاتے۔
📖 سنن ترمذی: 542، موطا امام مالک: 426
━━━━━━━━━━━━━━
➍ عیدگاہ میں نمازِ عید ادا کرنا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید الفطر اور عید الاضحیٰ ادا کرنے عید گاہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔
📖 صحیح بخاری: 956، 982
📖 صحیح مسلم: 885، 884، 845، 844
📖 سنن نسائی: 1590
📖 سنن ابوداؤد: 2811
📖 سنن ابن ماجہ: 3161
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/956/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/982/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/885/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/884/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/845/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/844/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1590/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2811/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3161/
❀ بارش ہونے کی صورت میں صرف ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز مسجد ہی میں ادا فرمائی۔
📖 سنن ابوداؤد: 1160، سنن ابن ماجہ: 1313
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1160/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1313/
━━━━━━━━━━━━━━
جاری ہے۔۔۔
15 ➎ عید گاہ جاتے اور واپس آتے راستہ بدلنا
❀ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز کے لیے عید گاہ جاتے ہوئے ایک راستہ اختیار فرمایا اور واپسی دوسرے راستے سے تشریف لائے۔
📖 صحیح بخاری: 986
📖 سنن ابوداؤد: 1156
📖 سنن ابن ماجہ: 1299
📖 سنن ترمذی: 541
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/986/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1156/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1299/
━━━━━━━━━━━━━━
➏ عید الاضحیٰ کی نماز جلد ادا کرنا
❀ عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلا کام نمازِ عید ادا کرنا ہے۔
📖 صحیح بخاری: 951، 968
📖 صحیح مسلم: 885
📖 سنن ابوداؤد: 2800
📖 سنن ترمذی: 1508
📖 سنن نسائی: 1580
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/951/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/968/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/885/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2800/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1580/
❀ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ نمازِ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے لیے تشریف لائے تو امام کے تاخیر کر دینے کو انہوں نے ناپسند فرمایا اور کہا:
”ہم تو اس وقت فارغ ہو چکے ہوتے تھے، اس وقت توضیحی (نماز اشراق) کا وقت ہو چکا ہے۔“
📖 سنن ابوداؤد: 1135، سنن ابن ماجہ: 1317
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1135/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1317/
━━━━━━━━━━━━━━
➐ عورتوں کا نمازِ عید کے لیے جانا
❀ ارشادِ ربانی ہے:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
”پس اپنے رب کے لیے نماز ادا کر اور قربانی کر۔“
📖 سورۃ الکوثر: 2
اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب عورتوں اور مردوں سب کے لیے ہے۔
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ پردے میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو بھی عید کے دن ساتھ لے جائیں۔
پوچھا گیا کہ جو ایامِ حیض میں ہوں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”وہ بھی خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں۔“
ایک عورت کہنے لگی:
اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ کیسے کرے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس کی بہن یعنی سہیلی اسے اپنی چادر کا حصہ اوڑھا دے۔“
📖 صحیح بخاری: 974
📖 صحیح مسلم: 890
📖 سنن ابوداؤد: 1136
📖 سنن نسائی: 1559
📖 سنن ابن ماجہ: 1307
📖 سنن ترمذی: 540
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/974/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/890/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1136/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1559/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1307/
━━━━━━━━━━━━━━
➑ حیض والیوں اور کنواری لڑکیوں کا عید گاہ جانا
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں عید گاہ کی طرف جانے کا حکم تھا۔
کنواری لڑکیاں اور حیض والیاں بھی پردہ میں باہر آتیں۔ یہ سب مردوں سے پیچھے رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے یہ بھی تکبیر کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی دعا کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔
📖 صحیح بخاری: 97
📖 صحیح مسلم: 890
📖 سنن ابوداؤد: 1138
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/97/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/890/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1138/
❀ نو عمر اور حیض والی عورتوں پر بھی واجب ہے کہ وہ عید گاہ میں حاضر ہوں۔ حیض والی عورتیں عید گاہ میں علیحدہ رہیں۔
📖 صحیح بخاری: 974
📖 صحیح مسلم: 890
📖 سنن ابوداؤد: 1137
📖 سنن نسائی: 1560
📖 سنن ابن ماجہ: 1308
📖 سنن ترمذی: 540
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/974/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/890/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1137/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1560/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1308/
━━━━━━━━━━━━━━
➒ عید کی مبارک باد دینا
سنن بیہقی میں لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب نماز ادا کرنے کے بعد لوٹتے تو ایک دوسرے کو:
تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ
کے الفاظ کہتے۔
وضاحت:
معانقہ یعنی گلے ملنا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، اس لیے یہ فعل سنت نہیں۔ یہ معاشرتی رسم ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں، لہٰذا گلے ملنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➓ قربانی کے جانور ذبح کرنا
❀ فرمانِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قربانی کے جانور کو نمازِ عید ادا کرنے کے بعد ذبح کرنا ہے۔ اگر نماز سے پہلے ذبح کر لیا تو دوبارہ نماز کے بعد ایک اور جانور ذبح کرنا ہو گا۔
📖 صحیح بخاری: 954، 5562
📖 صحیح مسلم: 1960
📖 سنن ابوداؤد: 2800
📖 سنن ترمذی: 1508
📖 سنن نسائی: 1580
📖 موطا امام مالک: 1051
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/954/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5562/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1960/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2800/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1580/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے بعد عید گاہ ہی میں قربانی کے جانور ذبح فرماتے۔
📖 صحیح بخاری: 982
📖 سنن نسائی: 1590
📖 سنن ابوداؤد: 2811
📖 سنن ابن ماجہ: 3161
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/982/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1590/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2811/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3161/
━━━━━━━━━━━━━━
⓫ قربانیوں کا گوشت کھانا، خوشی منانا اور جائز کھیل کھیلنا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہر اونٹ میں سے ایک ایک بوٹی لے کر پکایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کچھ گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
📖 سنن ابن ماجہ: 3158، مسند احمد: 3/331
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3158/
❀ عید کے دن خوشی منانا اور کھیل وغیرہ کھیلنا جائز ہے، لیکن ایسے افعال نہ کیے جائیں جن کے کرنے سے منع کیا گیا ہو اور جن کے کرنے سے گناہ ہو۔
📖 صحیح مسلم: 892
📖 سنن ابن ماجہ: 3158
📖 سنن نسائی: 1594 تا 1598
📖 مسند احمد: 3/331
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/892/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3158/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1594/
━━━━━━━━━━━━━━
اللہ تعالیٰ ہمیں عید الاضحیٰ کے مسنون اعمال پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین