ٹرینڈنگ
گزشتہ دو دنوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
14372
مضامین
- ★ کشمیر ویلفیئر ایسوسی ایشن کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم
- ★ انجکشن کے ذریعے دوا کے داخلے سے روزہ ٹوٹنے کے دلائل
- ★ فرشتوں سے متعلق پرویز کے 5 متضاد نظریات
- ★ نمازِ ظہر سے پہلے چار سنتیں کب اور کیسے پڑھیں؟ مکمل رہنمائی
- ★ نماز میں ٹخنے ڈھانپنے اور سنت ترک کرنے کا شرعی حکم
- ★ بیوی کے رضاعی بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے نکاح کا کیا حکم ہے؟
- ★ قربانی کے جانور پر ضرورت کے وقت سواری کا جواز
- ★ قبر پر مٹی ڈالنے اور پانی چھڑکنے کا شرعی حکم اور احادیث کی تحقیق
- ★ اگر نماز جنازہ میں صرف دو مرد ہوں، تو امام آگے اور منتقدی اکیلا پیچھے کھڑا ہو گا
- ★ رمضان سے پہلے دو بڑے گناہوں سے سچی توبہ کریں
- ★ نماز کی رواتب یا تعلیم؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت
- ★ قربانی کا جانور ادھار پر لینا جائز ہے؟ شرعی حکم اور دلائل
- ★ وضو، نماز میں زبان سے نیت
- ★ عورت کے لیے مانع حمل گولیاں استعمال کرنا
- ★ وراثت میں بیٹی کو محروم کرنا اور رشتہ داروں سے قطع تعلق
- ★ دیت میں کس چیز کو مدنظر رکھا جائے گا ؟
- ★ آیات کو ان کے معنی سے پھیر دینا
- ★ عادل قاضی کی فضیلت اور اجر
- ★ بچوں کے لئے چھوٹا لباس
- ★ شعبان کے روزوں کی فضیلت
- ★ شرابی کو سلام کہنا کیسا ہے؟
- ★ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کا انجام اور قیامت کے دن کی حسرت
- ★ چغلی اور عیب جوئی کرنے والوں کی سخت مذمت
- ★ تقلید ناجائز ہے، کیا تقلید بدعت بھی ہے؟
- ★ جمعہ کے خطبے کے دوران سلام اور جواب کا شرعی حکم
- ★ کیا مسلمان جن کی مدد سے علاج کرنا جائز ہے؟
- ★ بچوں کو مسجد میں لے جانے کا شرعی حکم
- ★ اصرار علی المعصیت: گناہ پر ڈٹے رہنے کی ہلاکت خیزی اور اس سے بچنے کا شرعی راستہ
- ★ حسد کی حقیقت اور شرعی دلائل
- ★ غیبت سے روزہ ٹوٹتا نہیں مگر اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے
- ★ روزہ: تزکیہ نفس اور تربیت اخلاق کا مکمل نصاب
- ★ رَضيتُ باللَّهِ ربًّا، وبالإسلامِ دينًا، وبِمُحمَّدٍ رسولًا کے فضائل صحیح احادیث میں
- ★ عید پر مبارک باد دینا: شرعی حکم اور الفاظ کا بیان
- ★ آزادی، سرمایہ اور نفس کی خواہشات کا فریب
- ★ تیمم سے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی مل جائے تو کیا کریں؟
- ★ نظر لگنے پر دم کروانے کا حکم و طریقہ
- ★ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اونٹ کی خریداری کا جھوٹا قصہ
- ★ فضائل درود
- ★ نماز قائم کرنے سے متعلق اللہ کا براہ راست حکم
- ★ طلع البدر علينا من ثنيات الوداع والے واقعہ کی حقیقت