تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزلزال (99) — آیت 1

اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙ﴿۱﴾
جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔ En
جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی
En
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عمَّا يكون يوم القيامة، وأنَّ الأرض تتزلزل وترجف وترتجُّ حتى يسقطَ ما عليها من بناءٍ ومَعْلَمٍ ، فتندكُّ جبالها، وتسوَّى تلالُها، وتكون قاعاً صفصفاً لا عوج فيه ولا أمتا، {وأخرجت الأرضُ أثقالها}؛ أي: ما في بطنها من الأموات والكنوز.