تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البينة (98) — آیت 8

جَزَآؤُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾
ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔ En
ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا
En
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔
﴿ذٰلِكَ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{جزاؤهم عند ربِّهم جناتُ عدنٍ}؛ أي: جناتُ إقامةٍ لا ظعن فيها ولا رحيل ولا طلب لغايةٍ فوقَها، {تجري من تحتها الأنهارُ خالدين فيها أبداً رضيَ الله عنهم ورضوا عنه}: فرضي عنهم بما قاموا به من مراضيه، ورضوا عنه بما أعدَّ لهم من أنواع الكرامات [وجزيل المثوبات]. {ذلك}: الجزاء الحسن {لِمَنْ خشيَ ربَّه}؛ أي: لمن خاف الله فأحجم عن معاصيه، وقام بما أوجب عليه.