تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البينة (98) — آیت 4

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾
اور وہ لوگ جنھیںکتاب دی گئی، جدا جدا نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی دلیل آگئی۔ En
اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد (ہوئے ہیں)
En
اہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اگر اہل کتاب اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإذا لم يؤمن أهل الكتاب بهذا الرسول وينقادوا له؛ فليس ذلك ببدع من ضلالهم وعنادهم؛ فإنَّهم ما تفرَّقوا واختلفوا وصاروا أحزاباً {إلاَّ من بعدِ ما جاءتْهُمُ البيِّنَةُ}: التي توجب لأهلها الاجتماع والاتِّفاق، ولكنَّهم لرداءتهم ونذالتهم لم يزدهم الهدى إلا ضلالاً ولا البصيرة إلا عمىً.