تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البينة (98) — آیت 1

لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾
وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔ En
جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی
En
اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمْ یَكُ٘نِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالْ٘مُشْ٘رِكِیْنَ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنْفَكِّیْنَ باز آنے والے۔ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {لم يكنِ الذينَ كَفَروا من أهلِ الكتابِ}؛ أي: من اليهود والنصارى، {والمشركين}: من سائر أصناف الأمم، {مُنفَكِّينَ}: عن كفرهم وضلالهم الذي هم عليه؛ أي: لا يزالون في غيِّهم وضلالهم، لا يزيدهم مرور الأوقات إلاَّ كفراً، {حتَّى تأتِيَهُم البيِّنةُ}: الواضحة والبرهان الساطع.