تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العلق (96) — آیت 6

کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿۶﴾
ہرگز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ En
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے
En
سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن الإنسان لجهله وظلمه؛ إذا رأى نفسه غنيًّا؛ طغى، وبغى، وتجبَّر عن الهدى، ونسي أنَّ لربِّه {الرُّجعى}: ولم يخف الجزاء، بل ربَّما وصلت به الحال أنَّه يترك الهدى بنفسه ويدعو غيره إلى تركه، فينهى عن الصَّلاة التي هي أفضل أعمال الإيمان.