تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العلق (96) — آیت 17

فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ۱۷﴾
پس وہ اپنی مجلس کو بلا لے۔ En
تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے
En
یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلْیَدْعُ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِیَهٗ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدْعُ الزَّبَ٘انِیَةَ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فَلْيَدْعُ}: هذا الذي حقَّ عليه العذابُ {نادِيَهُ}؛ أي: أهل مجلسه وأصحابه ومن حوله ليُعينوه على ما نزل به، {سنَدْعو الزَّبانيةَ}؛ أي: خزنة جهنَّم لأخذه وعقوبته. فلينظر أيُّ الفريقين أقوى وأقدر. فهذه حالة الناهي وما توعد به من العقوبة.