تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العلق (96) — آیت 15

کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾
ہرگز نہیں، یقینا اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔ En
دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے
En
یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا: ﴿كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم توعَّده إن استمرَّ على حاله، فقال: {[كلاَّ] لئن لم ينتَهِ}: عمَّا يقول ويفعل، {لَنَسْفَعَاً بالنَّاصيةِ}؛ أي؛ لَنأخُذنَّ بناصيته أخذاً عنيفاً، وهي حقيقةٌ بذلك؛ فإنَّها {ناصيةٌ كاذبةٌ خاطئةٌ}؛ أي: كاذبةٌ في قولها، خاطئةٌ في فعلها.