تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التين (95) — آیت 4

لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾
بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔ En
کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والمقسم عليه قوله: {لقد خَلَقْنا الإنسان في أحسنِ تقويمٍ}؛ أي: تامَّ الخلق، متناسب الأعضاء، منتصب القامة، لم يفقد ممَّا يحتاج إليه ظاهراً وباطناً شيئاً.