تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَلتِّیْن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّیْتُوْن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوْرِسِیْنِیْنَ﴾”طور سیناء کی قسم!“ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَاالْبَلَدِالْاَمِیْنِ﴾”اور اس امن والے شہر کی۔“ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{التين}: هو التين المعروف، وكذلك {الزَّيتون}؛ أقسم بهاتين الشجرتين؛ لكثرة منافع شجرهما وثمرهما، ولأنَّ سلطانهما في أرض الشام محلِّ نبوَّة عيسى ابن مريم عليه السلام، {وطورِ سينينَ}؛ أي: طور سيناء محلِّ نبوَّة
موسى عليه السلام ، {وهذا البلدِ الأمينِ}: وهو مكَّة المكرَّمة محلُّ نبوَّة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -. فأقسم تعالى بهذه المواضع المقدَّسة التي اختارها وابتعث منها أفضل الأنبياء وأشرفهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔