تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّیْلِاِذَایَغْشٰى ﴾”رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔“ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِاِذَاتَ٘جَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا قسمٌ من الله بالزمان الذي تقع فيه أفعال العباد على تفاوت أحوالهم، فقال: {والليلِ إذا يغشى}؛ أي: يعمُّ الخلق بظلامه، فيسكنُ كلٌّ إلى مأواه ومسكنه، ويستريحُ العباد من الكدِّ والتعب، {والنَّهار إذا تجلَّى}: للخلق، فاستضاؤوا بنوره، وانتشروا في مصالحهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔