تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَدْاَفْ٘لَ٘حَمَنْزَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدْخَابَمَنْدَسّٰىهَا﴾”اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔“ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {قد أفلح من زكَّاها}؛ أي: طهَّر نفسه من الذُّنوب، ونقَّاها من العيوب، ورقَّاها بطاعة الله، وعلاَّها بالعلم النافع والعمل الصالح، {وقد خاب من دسَّاها}؛ أي: أخفى نفسه الكريمة التي ليست حقيقة بقمعها وإخفائها بالتدنُّس بالرَّذائل والدُّنوِّ من العيوب والذُّنوب ، وترك ما يكمِّلها وينمِّيها، واستعمال ما يشينها ويدسِّيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔