تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البلد (90) — آیت 1

لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾
نہیں، میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں! En
ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم
En
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الْبَلَدِاس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ یعنی آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی قسم!
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقسم تعالى {بهذا البلدِ} الأمين، وهو مكَّة المكرَّمة، أفضل البلدان على الإطلاق، خصوصاً وقت حلول الرسول - صلى الله عليه وسلم - فيها، {ووالدٍ وما وَلَدَ}؛ أي: آدم وذرِّيَّته.