تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 98

وَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مَا یُنۡفِقُ مَغۡرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآئِرَ ؕ عَلَیۡہِمۡ دَآئِرَۃُ السَّوۡءِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۹۸﴾
اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تم پر (زمانے کے) چکروں کا انتظار کرتے ہیں، برا چکر انھی پر ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
En
اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں، برا وقت ان ہی پر پڑنے واﻻ ہے اور اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

(۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔
بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنْ یَّؔتَّؔخِذُ مَا یُنْفِقُ جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں۔ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغْرَمًا تاوان یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں۔ ﴿ وَّیَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَیْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن ذلك أنَّ الأعراب أحرصُ على الأموال وأشحُّ فيها؛ فمنهم {من يتَّخذُ ما ينفِقُ}: من الزكاة والنفقة في سبيل الله وغير ذلك، {مغرماً}؛ أي: يراها خسارة ونقصاً، لا يحتسب فيها، ولا يريد بها وجه الله، ولا يكادُ يؤدِّيها إلا كرهاً، {ويتربَّص بكم الدوائرَ}؛ أي: من عداوتهم للمؤمنين وبُغضهم لهم أنهم يودُّون وينتظرون فيهم دوائر الدَّهر وفجائع الزمان، وهذا سينعكس عليهم. فعليهم {دائرةُ السَّوْء}، أما المؤمنون؛ فلهم الدائرةُ الحسنةُ على أعدائهم، ولهم العُقبى الحسنة. {والله سميعٌ عليمٌ}: يعلم نيات العباد وما صدرت منه الأعمال من إخلاص وغيره.