تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 92

وَّ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ؕ۹۲﴾
اور نہ ان لوگوں پر کہ جب بھی وہ تیرے پاس آئے ہیں، تاکہ تو انھیں سواری دے تو توُ نے کہا میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہ رہی تھیں، اس غم سے کہ وہ نہیں پاتے جو خرچ کریں ۔ En
اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
En
ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لئے کچھ بھی نہیں پاتا، تو وه رنج وغم سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں کہ انہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی میسر نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّلَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کو سواری دیں مگر انھوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿ قُلْتَ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ﴿ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے کیونکہ وہ عاجز، بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کوئی حرج اور گناہ نہیں، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا ... یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا على الذين إذا ما أتَوْكَ لِتَحْمِلَهم}: فلم يصادفوا عندك شيئاً. {قلتَ}: لهم معتذراً: {لا أجِدُ ما أحمِلُكم عليه تَوَلَّوْا وأعينُهم تفيضُ من الدمع حَزَناً أن لا يجدوا ما ينفقون}: فإنهم عاجزون باذلون لأنفسهم، وقد صدر منهم من الحزن والمشقَّة ما ذكره الله عنهم؛ فهؤلاء لا حَرَجَ عليهم، وإذا سقط الحرجُ عنهم؛ عاد الأمر إلى أصله، وهو أنَّ مَن نوى الخير واقترن بنيَّته الجازمة سَعْيٌ فيما يقدِرُ عليه ثم لم يقدِرْ؛ فإنَّه ينزَّلُ منزلة الفاعل التامِّ.