تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 90

وَ جَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِیُؤۡذَنَ لَہُمۡ وَ قَعَدَ الَّذِیۡنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۰﴾
اور بدویوں میں سے بہانے بنانے والے آئے، تاکہ انھیں اجازت دی جائے اور وہ لوگ بیٹھ رہے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا۔ ان میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جلد ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔ En
اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
En
بادیہ نشینوں میں سے عذر والے لوگ حاضر ہوئے کہ انہیں رخصت دے دی جائے اور وه بیٹھ رہے جنہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے جھوٹی باتیں بنائی تھیں۔ اب تو ان میں جتنے کفار ہیں انہیں دکھ دینے والی مار پہنچ کر رہے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ۠ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الْمُعَذِّرُوْنَ۠ عذر کرنے والے میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب دنیا و آخرت میں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وجاء المعذِّرونَ من الأعراب لِيُؤْذَنَ لهم}؛ أي: جاء الذين تهاونوا وقصَّروا منهم في الخروج لأجل أن يؤذنَ لهم في ترك الجهاد؛ غيرَ مبالين في الاعتذار لجفائهم وعدم حيائهم وإتيانهم بسبب ما معهم من الإيمان الضعيف، وأما الذين كذبوا الله ورسوله منهم؛ فقعدوا وتركوا الاعتذار بالكلِّيَّة. ويُحتمل أنَّ معنى قوله: {المعذِّرون}؛ أي: الذين لهم عذرٌ أتوا إلى الرسول - صلى الله عليه وسلم - لِيَعْذِرَهم، ومن عادته أن يَعْذِرَ مَن له عذرٌ، {وَقَعَدَ الذين كَذَبوا الله ورسوله}: في دعواهم الإيمان المقتضي للخروج وعدم عملهم بذلك. ثم توعدهم بقوله: {سيُصيب الذين كفروا منهم عذابٌ أليمٌ}: في الدُّنيا والآخرة.