اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
En
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَالْمُؤْمِنُوْنَوَالْمُؤْمِنٰتُ ﴾”اہل ایمان مرد اور عورتیں “﴿بَعْضُهُمْاَوْلِیَآءُبَعْضٍ﴾”ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“ یعنی محبت، موالات، منسوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والی و مددگار ہیں۔ ﴿ یَاْمُرُوْنَبِالْ٘مَعْرُوْفِ ﴾”وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں “”المعروف“ ہر ایسے کام کے لیے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً: عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ۔ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے خود داخل ہوتے ہیں۔ ﴿ وَیَنْهَوْنَعَنِالْمُنْؔكَرِ ﴾”اور برائی سے روکتے ہیں “ اور ہر وہ کام جو ”المعروف“ کے خلاف اور اس کے منافی ہو ”المنکر“ کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً: عقائد باطلہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق رذیلہ وغیرہ۔ ﴿ وَیُطِیْعُوْنَاللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ﴾”اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔“ یعنی وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَسَیَرْحَمُهُمُاللّٰهُ﴾”یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں داخل کرے گا اور انھیں اپنے احسان سے نوازے گا۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَعَزِیْزٌحَكِیْمٌ ﴾”بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ طاقتور اور غالب ہے، طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے، وہ ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ تخلیق کرتا ہے اور جو کچھ حکم دیتا ہے، اس پر اس کی حمد بیان کی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر أنَّ المنافقين بعضهم من بعض ؛ ذكر أن المؤمنين بعضهم أولياء بعض، ووصفهم بضدِّ ما وصف به المنافقين، فقال: {والمؤمنون والمؤمناتُ}؛ أي: ذكورهم وإناثهم، {بعضُهم أولياءُ بعضٍ}: في المحبَّة والموالاة والانتماء والنُّصرة. {يأمرون بالمعروف}: وهو اسمٌ جامعٌ لكلِّ ما عُرِف حسنه من العقائد الحسنة والأعمال الصالحة والأخلاق الفاضلة، وأول مَن يدخُلُ في أمرهم أنفسُهم. {وينهَوْن عن المنكر}: وهو كلُّ ما خالف المعروف، وناقَضَه من العقائد الباطلة والأعمال الخبيثة والأخلاق الرذيلة، {ويطيعونَ الله ورسوله}؛ أي: لا يزالون ملازمين لطاعة الله ورسوله على الدوام. {أولئك سيرحمُهُم الله}؛ أي: يدخلهم في رحمته ويشمَلُهم بإحسانه. {إنَّ الله عزيزٌ حكيمٌ}؛ أي: قويٌّ قاهرٌ، ومع قوته؛ فهو حكيمٌ يضع كل شيء موضعَه اللائق به الذي يُحمد على ما خلقه وأمر به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔