تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 68

وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡکُفَّارَ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ہِیَ حَسۡبُہُمۡ ۚ وَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۶۸﴾
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، وہی ان کو کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔ En
الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے
En
اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں، عورتوں اورکافروں سے جہنم کی آگ کا وعده کر چکا ہے جہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، وہی انہیں کافی ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے، اور ان ہی کے لئے دائمی عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے اس میں، وہی بس ہے ان کو اور لعنت کی ان پر اللہ نے اور ان کے لیے برقرار رہنے والا عذاب ہے اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم اور لعنت میں اکٹھا کر دے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ دنیا میں بھی وہ کفر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار پر متفق تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وعد الله المنافقين والمنافقات والكفار نار جهنم خالدين فيها هي حسبهم ولعنهم الله ولهم عذابٌ مقيمٌ}: جمع المنافقين والكفار في نار جهنَّم واللعنةِ والخلودِ في ذلك لاجتماعهم في الدُّنيا على الكفر والمعاداة لله ورسوله والكفر بآياته.