بلاشبہ یقینا انھوں نے اس سے پہلے فتنہ ڈالنا چاہا اور تیرے لیے کئی معاملات الٹ پلٹ کیے، یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا، حالانکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے۔
En
یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لیے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے
یہ تو اس سے پہلے بھی فتنے کی تلاش کرتے رہے ہیں اور تیرے لئے کاموں کو الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب آگیا باوجودیکہ وه ناخوشی میں ہی رہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
نیز اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ پہلے بھی ان کی شر انگیزی ظاہر ہو چکی ہے۔ ﴿ لَقَدِابْتَغَوُاالْفِتْنَةَمِنْقَبْلُ ﴾”وہ اس سے پہلے بھی بگاڑ تلاش کرتے رہے ہیں “ یعنی جب تم لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت بھی انھوں نے فتنہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ﴿ وَقَلَّبُوْالَكَالْاُمُوْرَ ﴾”اور الٹتے رہے ہیں آپ کے کام“ یعنی انھوں نے افکار کو الٹ پلٹ کر ڈالا، تمھاری دعوت کو ناکام کرنے اور تمھیں تنہا کرنے کے لیے حیلہ سازیاں کیں اور اس میں انھوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ﴿ حَتّٰىجَآءَالْحَقُّوَظَهَرَاَمْرُاللّٰهِوَهُمْكٰرِهُوْنَ ﴾”یہاں تک کہ حق آ گیا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ ناخوش تھے“ پس ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور ان کا باطل مضمحل ہوگیا۔ سو اس قسم کے لوگ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرے اور اہل ایمان ان کے پیچھے رہ جانے کی پروا نہ کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر أنه قد سبق لهم سوابق في الشرِّ، فقال: {لقد ابتَغَوُا الفتنة من قبلُ}؛ أي: حين هاجرتم إلى المدينة، بذلوا الجهد، {وقَلَّبوا لك الأمورَ}؛ أي: أداروا الأفكار، وأعملوا الحيل في إبطال دعوتِكم وخِذْلانِ دينِكم، ولم يُقَصِّروا في ذلك. {حتى جاء الحقُّ وظهر أمرُ الله وهم كارهون}: فبَطَلَ كيدُهم، واضمحلَّ باطلُهم؛ فحقيقٌ بمثلِ هؤلاء أن يحذِّر الله عبادَه المؤمنين منهم، وأن لا يبالي المؤمنونَ بتخلُّفهم عنهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔