نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
En
تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ اِنْفِرُوْاخِفَافًاوَّثِقَالًا﴾”نکلو ہلکے اور بوجھل“ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لیے نکلو۔ ﴿ وَّجَاهِدُوْابِاَمْوَالِكُمْوَاَنْفُسِكُمْفِیْسَبِیْلِاللّٰهِ﴾”اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ذٰلِكُمْخَیْرٌلَّـكُمْاِنْكُنْتُمْتَعْلَمُوْنَ ﴾”یہ تمھارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ تمھیں علم ہو۔“ یعنی گھر بیٹھ رہنے کی نسبت، جان و مال سے جہاد کرنا تمھارے لیے بہتر ہے کیونکہ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کا حصول، اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور اس کی فوج اور اس کے گروہ میں داخل ہونا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لعباده المؤمنين مهيِّجاً لهم على النفير في سبيله، فقال: {انفِروا خفافاً وثقالاً}: في العسر واليسر، والمنشط والمكره، والحرِّ والبرد، وفي جميع الأحوال، {وجاهدوا بأموالكم وأنفسِكم في سبيل الله}؛ أي: ابذلوا جهدكم في ذلك، واستفرغوا وُسْعَكم في المال والنفس. وفي هذا دليلٌ على أنه كما يجب الجهادُ في النفس يجب [الجهادُ] في المال حيث اقتضت الحاجة ودعت لذلك. ثم قال: {ذلكم خيرٌ لكم إن كنتم تعلمونَ}؛ أي: الجهاد في النفس والمال خيرٌ لكم من التقاعد عن ذلك؛ لأنَّ فيه رضا الله تعالى والفوز بالدرجات العاليات عنده والنصر لدين الله والدُّخول في جملة جنده وحزبه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔