انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
En
انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حاﻻنکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوْۤااَحْبَارَهُمْ ﴾”انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو“ (اَحْبَار) سے مراد ان کے ”علماء“ ہیں۔ ﴿وَرُهْبَانَهُمْ ﴾”اور اپنے رہبان کو“ اور (رُہْبَان) سے مراد ”وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنھوں نے عبادت کے لیے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔“﴿ اَرْبَ٘ابًامِّنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾”رب، اللہ کے سوا“ وہ ان کے لیے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لیے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔ نیز یہ اپنے مشائخ و عباد کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں، ان کی قبروں کو بت بنا دیتے ہیں جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، جہاں جانور ذبح کرنے کی منتیں مانی جاتی ہیں، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ ﴿ وَالْ٘مَسِیْحَابْنَمَرْیَمَ﴾”اور مسیح ابن مریم کو۔“ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا مسیح ابن مریم کو بھی معبود بنا لیا۔ اس حال میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے توسط سے ان کو دیا تھا۔ ﴿ وَمَاۤاُمِرُوْۤااِلَّالِیَعْبُدُوْۤااِلٰهًاوَّاحِدًا﴾”حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کے عبادت نہ کریں۔“ پس عبادت اور اطاعت کو صرف اسی کے لیے خالص کریں۔ محبت اور دعا کے لیے صرف اسی کو مخصوص کریں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ سُبْحٰؔنَهٗ ﴾”پاک ہے وہ اس سے“ اور بلند ہے۔ ﴿ عَمَّؔایُشْرِكُوْنَ ﴾”ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں “ وہ پاک اور مقدس ہے، اس کی عظمت اور شان ان کے شرک اور بہتان طرازی سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ اس بارے میں نقص کے مرتکب ہیں اور اسے ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اوصاف و افعال میں ہر اس چیز سے منزہ اور بلند ہے جو اس کے کمال مقدس کے منافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا وإن كان يُستغرب على أمةٍ كبيرةٍ كثيرة أن تتَّفق على قول يدلُّ على بطلانه أدنى تفكُّر وتسليطٍ للعقل عليه؛ فإن لذلك سبباً، وهو أنهم {اتَّخذوا أحبارهم}: وهم علماؤهم، {ورهبانَهم}؛ أي: العباد المتجردين للعبادة، {أرباباً من دون الله}: يُحِلُّون لهم ما حرَّم الله فيُحِلُّونه، ويحرِّمون لهم ما أحلَّ الله فيحرِّمونه، ويَشْرعون لهم من الشرائع والأقوال المنافية لدين الرسل، فيتَّبعونهم عليها، وكانوا أيضاً يغلون في مشايخهم وعُبادهم، ويعظِّمونهم، ويتَّخذون قبورهم أوثاناً تُعبد من دون الله، وتُقصد بالذبائح والدُّعاء والاستغاثة. {والمسيحَ ابن مريم}: اتَّخذوه إلهاً من دون الله، والحال أنَّهم خالفوا في ذلك أمر الله لهم على ألسنة رسله، فما {أُمِروا إلا لِيَعْبُدوا إلهاً واحداً لا إله إلَّا هو}: فيُخلصون له العبادة والطاعة ويخصُّونه بالمحبَّة والدُّعاء، فنبذوا أمر الله، وأشركوا به ما لم يُنَزِّلْ به سلطاناً. {سبحانه}: وتعالى {عمَّا يُشركون}؛ أي: تنزَّه وتقدَّس وتعالت عظمتُه عن شركهم وافترائهم؛ فإنَّهم ينتقِصونه في ذلك ويصِفونه بما لا يَليق بجلاله، والله تعالى العالي في أوصافه وأفعاله عن كل ما نُسِبَ إليه مما يُنافي كماله المقدَّس.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔