تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 106

وَ اٰخَرُوۡنَ مُرۡجَوۡنَ لِاَمۡرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمۡ وَ اِمَّا یَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
اور کچھ دوسرے ہیں جو اللہ کے حکم کے لیے مؤخر رکھے گئے ہیں، یا تو وہ انھیں عذاب دے اور یا پھر ان پر مہربان ہو جائے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے ان کو معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
En
اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرلے گا، اور اللہ خوب جاننے واﻻ ہے بڑا حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاٰخَرُوْنَ اور کچھ دوسرے لوگ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے والے کچھ دوسرے لوگ ﴿مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ جن کاکام اللہ کے حکم پر موقوف ہے۔ یعنی جن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موخر ہے ﴿ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ چاہے ان کو عذاب دے، چاہے ان کی توبہ قبول کر لے۔ اس آیت کریمہ میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سخت تخویف ہے اور ان کو توبہ کرنے اور اپنے اس عمل پر نادم ہونے کی ترغیب دی گئی ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور ان کو توبہ کی توفیق نہ دے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وآخرون}: من المخلَّفين مؤخَّرون {لأمرِ الله إمَّا يعذِّبُهم وإمَّا يتوبُ عليهم}: ففي هذا التخويف الشديد للمتخلِّفين والحث لهم على التوبة والندم. {واللهُ عليمٌ}: بأحوال العباد ونياتهم، {حكيمٌ}: يضع الأشياء مواضعها، وينزِلُها منازلَها؛ فإذا اقتضت حكمتُه أن يغفر لهم ويتوب عليهم؛ غفر لهم وتاب عليهم. وإن اقتضت حكمتُه أن يخذُلَهم ولا يوفِّقهم للتوبة؛ فعل ذلك.