تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 104

اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾
کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی ہے جو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے اور بےشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
En
کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کے فضل و کرم کے فیضان عام کو نہیں جانتے؟ ﴿ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ اللہ ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔ توبہ کرنے والے بندوں کی، خواہ یہ توبہ کسی بھی گناہ سے کیوں نہ ہو بلکہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ ﴿وَیَ٘اْخُذُ الصَّدَقٰتِ اور صدقات لیتا ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے صدقات قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور ان کے صدقات کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ کہ صدقہ میں دیا گیا کھجور کا ایک دانہ بڑے پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے اور اس صدقہ کا کیا حال ہوگا جو کھجور کے دانے سے بہت بڑا اور تعداد میں بہت زیادہ ہو۔
﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ اور بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یعنی وہ توبہ کرنے والوں کی بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی بھی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے خواہ وہ بار بار گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کرتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے سے اس وقت تک تنگ نہیں آتا جب تک کہ بندے توبہ کرنے سے تنگ نہ آجائیں اور اس کے دروازے سے بھاگ کر اس کے دشمن کو دوست نہ بنا لیں۔ ﴿الرَّحِیْمُ بہت رحم کرنے والا ہے۔ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے لکھ دیا ہے جو زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أما علموا سَعَةَ رحمة الله وعمومَ كرمه، وأنه {يقبلُ التوبةَ عن عبادِهِ}: التائبين من أيِّ ذنبٍ كان، بل يفرحُ تعالى بتوبة عبده إذا تاب أعظم فرحٍ يقدَّر، {ويأخُذُ الصدقاتِ}: منهم؛ أي: يقبلها ويأخُذُها بيمينه، فيُرَبِّيها لأحدهم كما يُربِّي الرجل فَلُوَّهُ، حتى تكون التمرةُ الواحدة كالجبل العظيم؛ فكيف بما هو أكبر وأكثر من ذلك. {وأنَّ الله هو التوابُ الرحيمُ}؛ أي: كثير التوبة على التائبين؛ فمنْ تاب إليه؛ تاب عليه، ولو تكررتْ منه المعصيةُ مراراً، ولا يَمَلُّ الله من التوبة على عباده حتى يَمَلُّوا هم، ويأبوا إلا النَّفارَ والشُّرودَ عن بابه وموالاتَهم عدوَّهم. {الرحيم}: الذي وسعت رحمتُهُ كلَّ شيءٍ، وكَتَبَها للذين يتَّقون، ويؤتون الزكاة، ويؤمنون بآياته، ويتَّبعون رسوله.