تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 1

بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَی الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ؕ﴿۱﴾
اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ان مشرکوں کی طرف بریٔ الذمہ ہونے کا اعلان ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا۔ En
(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے
En
اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے۔ ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے عہد وپیمان کیا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هذه {براءةٌ من الله} ومن {رسوله}: إلى جميع المشركين المعاهدين؛ أنَّ لهم أربعة أشهر يسيحون في الأرض على اختيارهم آمنين من المؤمنين، وبعد الأربعة الأشهر؛ فلا عهد لهم ولا ميثاق. وهذا لمن كان له عهدٌ مطلقٌ غير مقدَّر أو مقدرٌ بأربعة أشهر فأقل، أما من كان له عهد مقدَّر بزيادة على أربعة أشهر؛ فإنه يتعيَّن أن يتمَّم له عهده إذا لم يُخَفْ منه خيانة، ولم يبدأ بنقض العهد.

ثم أنذر المعاهَدين في مدة عهدهم أنَّهم وإن كانوا آمنين؛ فإنهم لن يعجِزوا الله ولن يفوتوه، وأنه من استمر منهم على شركه؛ فإنه لا بدَّ أن يخزيه، فكان هذا مما يجلبهم إلى الدخول في الإسلام إلا من عاند، وأصرَّ، ولم يبال بوعيد الله.