تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الغاشية (88) — آیت 25

اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾
یقینا ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے ۔ En
بےشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے
En
بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَ٘ابَهُمْ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ إلينا إيابَهم}؛ أي: رجوع الخلائق وجمعهم في يوم القيامةِ. {ثم إنَّ علينا حسابَهم}: على ما عملوا من خيرٍ وشرٍّ.