تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الغاشية (88) — آیت 1

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾
کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی کی خبر پہنچی؟ En
بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے
En
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى أحوال يوم القيامة وما فيها من الأهوال الطامَّة، وأنَّها تغشى الخلائق بشدائدها، فيجازَوْن بأعمالهم، ويتميَّزون إلى فريقين: فريق في الجنَّة، وفريق في السَّعير. فأخبر عن وصف كلا الفريقين: