تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعلى (87) — آیت 4

وَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰی ۪ۙ﴿۴﴾
اور وہ جس نے چارا اگایا۔ En
اور جس نے چارہ اگایا
En
اور جس نے تازه گھاس پیدا کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْ٘مَرْعٰى یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحْوٰى پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وتُذكَر فيها نِعَمه الدنيويَّة، ولهذا قال: {والذي أخرج المرعى}؛ أي: أنزل من السماء ماءً، فأنبت به أصناف النبات والعشب الكثير، فرتع فيه الناسُ والبهائم وجميع الحيوانات. ثم بعد أن استكمل ما قَدَّرَ له من الشباب؛ ألوى نباته وصوَّح عشبه، {فجعله غثاءً أحوى}؛ أي: أسود؛ أي: جعله هشيماً رميماً.