تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعلى (87) — آیت 16

بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿۫ۖ۱۶﴾
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ۔ En
مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو
En
لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰى حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بل تؤثرون الحياة الدُّنيا}؛ أي: تقدِّمونها على الآخرة، وتختارون نعيمها المنغَّص المكدَّر الزائل على الآخرة، {والآخرةُ خيرٌ وأبقى}: خيرٌ من الدُّنيا في كلِّ وصفٍ مطلوبٍ، {وأبقى}؛ لكونها دار خلدٍ وبقاءٍ [وصفاء] والدنيا دار فناء. فالمؤمن العاقل لا يختار الأردأ على الأجود، ولا يبيع لذَّةَ ساعةٍ بترحة الأبد، فحبُّ الدُّنيا وإيثارها على الآخرة رأس كلِّ خطيئة.