تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔
﴿وَالَّذِیْقَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى بتسبيحه المتضمِّن لذكره وعبادته والخضوع لجلاله والاستكانة لعظمته، وأن يكون تسبيحاً يليق بعظمة الله تعالى؛ بأن تُذْكَرَ أسماؤه الحسنى العالية على كل اسم بمعناها العظيم الجليل ، وتذكر أفعاله التي منها أنَّه خلق المخلوقات فسواها؛ أي: أتقن وأحسن خلقها، {والذي قَدَّرَ}: تقديراً تتبعه جميع المقدَّرات، {فهدى}: إلى ذلك جميع المخلوقات، وهذه الهداية العامَّة التي مضمونها أنَّه هدى كلَّ مخلوق لمصلحته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔