تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البروج (85) — آیت 11

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕؑ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۱۱﴾
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے
En
بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے بہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِاور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُ ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر عقوبة الظالمين؛ ذكر ثواب المؤمنين، فقال: {إنَّ الذين آمنوا}: بقلوبهم، {وعمِلوا الصالحاتِ}: بجوارحهم، {لهم جناتٌ تجري من تحتِها الأنهارُ ذلك الفوزُ الكبيرُ}: الذي حَصَلَ لهم الفوزُ برضا الله ودار كرامته.