تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّالَّذِیْنَاٰمَنُوْا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمْجَنّٰتٌتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَالْفَوْزُالْكَبِیْرُ﴾”ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔“ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر عقوبة الظالمين؛ ذكر ثواب المؤمنين، فقال: {إنَّ الذين آمنوا}: بقلوبهم، {وعمِلوا الصالحاتِ}: بجوارحهم، {لهم جناتٌ تجري من تحتِها الأنهارُ ذلك الفوزُ الكبيرُ}: الذي حَصَلَ لهم الفوزُ برضا الله ودار كرامته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔